Al-Risala · December 1991 · page 43

سفر پيٹھہ ۳

الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۱، صفحہ ۴۳

کوتاہی پر درگزر فرمائیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ان حضرات کا مخلصانہ تعاون کسی رسمی شکریہ سے بلند ہے۔ تاہم ہمارا یہ اسلامی فرض ہے کہ ہم تہ دل سے ان کا شکر یہ ادا کریں (من لم يشكر الناس لم يشكر الله)

الرساله سمپوزیم پٹنہ کے ساتھیوں کی طرف سے بلاشبہ ایک کامیاب اقدام تھا۔ اس کے بعد پٹنہ میں کام کی طرف نئی حرکت شروع ہوئی ہے۔ الرسالہ کا پیغام پہلے سے زیادہ لوگوں کے درمیان زیر بحث آرہا ہے۔ روزنامہ صدائے عام (پٹنہ) نے الرسالہ کا مضمون اپنے کالموں میں شائع کیا ہے۔ اس کے علاوہ سمپوزیم کی خبروں کو اکثر اخبارات شائع کرتے رہے ہیں۔ قارئین الرسالہ کی تعداد مقامی طور پر بڑھ رہی ہے۔ مسٹر ایم ٹی خان نے اپنی رہائش گاہ پر لائبریری قائم کی ہے جس میں الرسالہ مشن کی تمام کتابیں برائے مطالعہ رکھی گئی ہیں۔ وغیرہ مزید یہ کہ پٹنہ میں باقاعدہ طور پر ماہانہ اجتماع بھی شروع ہو گیا ہے۔ یہ اجتماع پروفیسر سید شہاب الدین دسنوی کی رہائش گاہ پر ہوتا ہے۔ اس کا وقت ہر مہینہ کے سکنڈ سٹڈے کو پانچ بجے شام ہے۔ پورا پتہ اور ٹیلیفون نمبر یہ ہے :

Prof. S. Shahabuddin Desnavi, Taj Manzil, Chajju Bagh, Patna 800004 (Tel. 224252)

چوں کہ الرسالہ میں پٹنہ سمپوزیم کی خبر مسٹر ایم ٹی خان کے پورے پتہ کے ساتھ پیشگی شائع ہوئی تھی، اس لئے ملک کے اندر اور ملک کے باہر سے اس سلسلہ میں کئی حضرات نے مسٹر ایم ٹی خان سے رجوع کیا اور معلومات دریافت کیں۔ مسٹر خان نے ان لوگوں کو بذریعہ خط اپنا جواب بھیج دیا ہے۔

مسٹر ایم ٹی خان نے مطلع کیا ہے کہ سمپوزیم کے بعد لوگوں نے مختلف سوالات کئے انھوں نے بطور خود ان سوالات کا جواب بھی دیا۔ یہاں کچھ سوالات مع جواب نقل کئے جاتے ہیں۔ ایک صاحب نے کہا کہ جب قرآن ایک الہامی کتاب ہے اور ہمارے پیغمبر نے اس کی تعلیم کو پوری طرح پھیلا دیا ہے اور اس کے پوشیدہ پہلوؤں کو اجاگر بھی کر دیا ہے تو اب آپ ہم کو ایمان ڈس کور کرنے کا مژدہ کیوں دے رہے ہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 1991 All issues

Printed page