Al-Risala · December 1991 · page 44

سفر پيٹھہ ۳

الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۱، صفحہ ۴۴

جواب: یہاں ڈسکوری کے لفظ سے وہی چیز مراد ہے جس کے لئے قرآن و حدیث میں معرفت کا لفظ آیا ہے۔ قرآن و سنت میں اسلام بلا شبہ موجود ہے۔ مگر ایک انسان جب اپنی ذات کی سطح پر اس کی معرفت حاصل کرتا ہے تو وہ اس کے اپنے لئے ڈسکوری کا ایک واقعہ ہوتا ہے۔ یہ اس کے لئے اسی قسم کا ایک نفسیاتی تجربہ ہوتا ہے جس کو ڈسکوری یا اکتشاف کہا جاتا ہے۔ ایک صاحب نے کہا کہ صبر و اعراض کی تلقین بظاہر درست ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ صبر و اعراض کب تک۔ آخراس کی حد (limit) کیا ہوگی۔

جواب: حد کا سوال اس وقت پیدا ہوتا ہے جب کہ صبر و اعراض کو شعوری طور پر اور شرح صدر کے ساتھ اختیار کیا جائے اور اس کا واقعہ تجربہ کیا جائے۔ ابھی تو لوگوں نے صبر و اعراض کو شعوری طور پر اختیار ہی نہیں کیا اور نہ اس کا واقعی معنوں میں تجربہ کیا۔ ایسی حالت میں حد کا سوال ابھی قبل از وقت ہے۔

مزید یہ کہ حد کا سوال محض ایک فرضی اندیشہ ہے۔ اعراض کا طریقہ اگرچہ ابھی تک عمومی طور پر اختیار نہیں کیا گیا۔ مگر بہت سی انفرادی مثالیں موجود ہیں جب کہ اعراض کا طریقہ اختیار کیا گیا اور فساد کا بم فوراً ڈیفیوز ہو کر رہ گیا۔ حقیقت یہ ہے کہ اعراض کا طریقہ مسئلہ کو پہلے ہی مرحلہ میں ختم کر دیتا ہے۔ پھر حد کا سوال کہاں پیدا ہو گا۔

ایک صاحب نے کہا کہ یہ بات قابل تشویش ہے کہ آپ اکثر آرگنائزر، پانچ جنیہ وغیرہ میں چھپتے ہیں۔ آخر ایسا کیوں۔

جواب: اس معاملہ میں صحیح اصول یہ ہے کہ یہ نہ دیکھا جائے کہ کہاں چھپا۔ بلکہ یہ دیکھا جائے کہ کیا چھپا۔ آپ ان پرچوں میں چھپے ہوئے مضامین کو پڑھیں۔ آپ پائیں گے کہ ان میں عین وہی بات کہی گئی ہے جو الرسالہ میں برابر شائع ہوتی رہی ہے۔ پھر اس پر اعتراض کس لئے۔ یہ تو خوش ہونے کی بات ہے کہ الرسالہ کا تعمیری پیغام اس طرح زیادہ وسیع حلقوں میں پھیل رہا ہے۔ ایک صاحب نے کہا کہ الرسالہ کا خلیج نمبر شائع کر کے آپ نے صدام حسین کی غلطیوں کو اجاگر کیا ہے۔ لیکن اب جنگ بند ہونے کے بعد صدام حسین پر طرح طرح کی زیاد تیاں کی جارہی ہیں لیکن آپ اس کے بارہ میں چپ ہیں۔ ایسا کیوں۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 1991 All issues

Printed page