Al-Risala · December 1991 · page 45

سفر پيٹھہ ۳

الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۱، صفحہ ۴۵

جواب : جب ایک شخص کوئی سنگین غلطی کرے تو اس کا انجام غلطی کرنے والے ہی کو بھگتنا پڑتا ہے۔ اس دنیا میں یہ ناممکن ہے کہ غلطی کوئی شخص کرے اور اس کا برا انجام کوئی دوسرا شخص بھگتے۔ یہ قدرت کے قانون کے خلاف ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ صدام حسین نے جارحیت کی، اور جو شخص جارحیت کرتا ہے اس کو بہر حال اس کا انجام بھگتنا پڑتا ہے۔

ایک صاحب نے کہا کہ صاحب الرسالہ خدا کو دیکھنے اور چھونے کی بات کرتے ہیں۔ کیا واقعی انھوں نے خدا کو دیکھا ہے اور چھوا ہے۔ اگر جواب ہاں میں ہے تو کیسے؟

جواب : اس قسم کی ہر بات مجازی معنوں میں کہی جاتی ہے نہ کہ حقیقی معنوں میں۔ مثلاً اقبال کی ایک نظم ”شکوہ، جواب شکوہ “ ہے۔ اس میں اقبال خدا کے ساتھ اپنی تفصیلی گفتگو کا ذکر کرتے ہیں۔ وہ خدا سے باقاعدہ سوال کرتے ہیں اور خدا ان کے سوالات کا انھیں براہ راست جواب دیتا ہے۔ اس گفتگو کو اگر بالکل لفظی معنی میں لے لیا جائے تو وہ حد درجہ غلط قرار پائے گی۔ کیوں کہ اس قسم کی گفتگو تو خدا اور پیغمبر کے درمیان بھی نہیں ہوئی۔

حقیقت یہ ہے کہ اس کا یہ مطلب نہیں کہ اقبال کی واقعہ خدا سے بات چیت ہوئی۔ یہ پورا کلام بطور مجازی استعارہ ہے نہ کہ بطور حقیقت۔

یہ معروف مجازی (metaphorical) اسلوب ہے۔ یعنی ایک احساس کو مؤثر بنانے کے لئے اس کو واقعہ کی زبان میں بیان کرنا۔ اس قسم کے مجازی اسلوب کی مثالیں دنیا کی ہر زبان میں پائی جاتی ہیں اور اسلامی ادب میں بھی اس کی مثالیں کثرت سے موجود ہیں۔ اس اسلوب کو کبھی قابل اعتراض نہیں سمجھا گیا اور نہ آج کوئی سنجیدہ اور صاحب علم شخص اس کو قابل اعتراض بتا سکتا ہے۔ "شکوہ اور جواب شکوہ “ کی نظم کو اگر بیان واقعہ کے طور پر لیں تو یہ نظم سخت قابل اعتراض دکھائی دے گی۔ مگر جب اس نظم کو ایک شعری اسلوب سمجھ کر پڑھیں تو وہ عین درست نظر آتی ہے، یہی معاملہ الرسالہ میں چھپنے والے مضمون کا ہے۔ اگر آپ یہ سمجھیں کہ اس میں ایک حقیقی واقعہ کا ذکر کیا گیا ہے تو وہ آپ کی نظر میں قابل اعتراض بن جائے گا لیکن اگر آپ یہ سمجھ کر اس کو پڑھیں کہ یہ ایک ادبی اسلوب ہے تو وہ آپ کو سراسر درست نظر آئے گا۔

مسٹر ایم ٹی خان مزید اپنے خط مورخہ یکم اکتوبر ۱۹۹۱ میں لکھتے ہیں کہ سمپوزیم کی رپورٹ کا ترجمہ

‹ Previous page Next page › Contents of December 1991 All issues

Printed page