Al-Risala · February 1991 · page 19

فروری ۱۹۹۱ الرسائل 19

الرسالہ، فروری ۱۹۹۱، صفحہ ۱۹

کا ایک پہلو ہمیشہ موجود رہتا ہے۔ چنانچہ اکثر لوگ اس شبہ والے پہلو میں اٹک کر رہ جاتے ہیں ۔ ہدایت کے واضح ہونے کے باوجود وہ اس کو اپنی زندگی میں اختیار نہیں کر پاتے۔ دورِ اول کی مثال اس سلسلے میں ایک مثال لیجئے ۔ قدیم مکہ میں ایک شخص تھا اس کا نام روایات میں الحارث بن عثمان بن نوفل بن عبد مناف بتایا گیا ہے۔ اس کے سامنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب توحید کی دعوت پیش تو اس نے اپنی قوم کی نمائندگی کرتے ہوئے آپ سے کہا: انا لنعلم ان الذى نقول حق ولكنا ان ہم جانتے ہیں کہ آپ جو کچھ کہتے ہیں وہ بلا شبہ حق اتبعناك خفنا ان تخرجنا العرب من ہے۔ لیکن اگر ہم آپ کی پیروی کریں تو ہم کو ڈر ہے ارض مکہ (التفسير المظهري) کہ عرب ہم کو مکہ کی سرزمین سے نکال دیں گے۔ شان نزول کی روایات کے مطابق، قرآن کی سورہ نمبر ۲۸ میں اس کا جواب دیا گیا ہے۔ ارشاد ہوا ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ اگر ہم آپ کے ساتھ اس ہدایت کی پیروی کریں تو ہم کو ڈر ہے کہ ہم کو ہماری زمین سے اچک لیا جائے گا ( وَقَالُوا إِنْ نَتَّبِعِ الْهُدَى مَعَكَ نُتَخَطَّفْ مِنْ أَرْضِنَا ، القصص ، ۵) قدیم مکہ میں وہاں کے لوگوں کی سرداری اور معاش دونوں کا خاص ذریعہ شرک تھا۔ انھوں نے یہ کیا تھا کہ مکہ کے تمام قبیلوں کا بت کعبہ میں رکھ دیا تھا۔ چنانچہ کعبہ میں ۳۶۰ مختلف بت جمع ہو گئے تھے۔ اس طرح مکہ کے لوگوں کو عرب کے تمام قبیلوں کی سرداری حاصل ہو گئی تھی۔ اسی کے ساتھ ان کو یہ . معاشی فائدہ بھی تھا کہ عرب کے مختلف قبیلے اپنے اپنے بتوں پر نذر چڑھانے کے لئے مکہ آتے تھے۔ یہ تمام نذرانے مکہ والوں کو ملتے تھے۔ اس طرح شرک مکہ والوں کے لئے بیک وقت قیادت کا ذریعہ بھی تھا اور معاشیات کے حصول کا ذریعہ بھی۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب ایک خدا کا پیغام ان کے سامنے پیش کیا تو ان کی فطرت نے اس کے برحق ہونے کی تصدیق کی ۔ مگر ان کا ذہن اس سوال میں اٹک گیا کہ اگر وہ یہ کہیں کہ خدا صرف ایک ہے ۔ بقیہ تمام دیوتا فرضی ہیں ، تو وہ اچانک تمام مشرک قبائل سے کٹ جائیں گے۔ اس کے بعد ان کی سرداری بھی ان سے چھین جائے گی اور ان کی معاش بھی۔ ہدایت کے واضح ہونے کے باوجود ایک شبہہ ان کے لئے قبولیت کی راہ میں رکاوٹ بن گیا۔

فروری ۱۹۹۱ الرسائل 19

‹ Previous page Next page › Contents of February 1991 All issues

Printed page