Al-Risala · February 1991 · page 20

ہندوستانی مسلمان

الرسالہ، فروری ۱۹۹۱، صفحہ ۲۰

ہندوستانی مسلمان

ہندوستانی مسلمانوں کا حال بھی موجودہ زمانہ میں یہی ہو رہا ہے۔ مختلف شبہات کی بنا پر وہ قرآن سے رہنمائی لینے میں ناکام ثابت ہوتے ہیں، ان کے سامنے جب قرآن کی بات رکھی جاتی ہے تو وہ محسوس کرتے ہیں کہ قرآنی تعلیمات کے مطابق یہی بات درست ہے۔ مگر فوراً ہی کچھ سوالات سامنے آکر انہیں اس کی طرف سے شبہ میں ڈال دیتے ہیں۔ وہ اپنے شبہات کی بنا پر قرآن کو اپنانے میں ناکام ثابت ہوتے ہیں۔

مثلاً جب ان کے سامنے صبر و اعراض کی آیتیں پیش کی جائیں تو وہ اس شبہہ میں مبتلا ہو جاتے ہیں کہ اگر ہم قومی معاملات میں صبر و اعراض کا طریقہ اختیار کریں تو ہندو ہمارے اوپر دلیر ہو جائے گا۔ جب ان کے سامنے قرآن کا دعوتی اور تعمیری پیغام رکھا جائے تو انہیں یہ شبہ لاحق ہو جاتا ہے کہ اگر ہم سیاست کی مہم نہ چلائیں تو ہم ملک میں ہونے والے سیاسی عمل سے کٹ جائیں گے۔ اگر ان سے یہ کہا جائے کہ ہندو تمہارے لئے مدعو کا درجہ رکھتے ہیں اور مدعوء سے مطالبہ اور احتجاج کو قرآن میں منع کیا گیا ہے، تو فور آ وہ یہ شبہ پیش کر دیں گے کہ اگر ہم مطالبہ اور احتجاج کا طریقہ چھوڑ دیں تو اس ملک میں ہم اپنے دستوری حقوق سے محروم ہو کر رہ جائیں گے۔ وغیرہ۔

آج کے سوال کے بارہ میں اصل مشکل یہی ہے۔ قرآن بلاشبہ ایک کامل اور مفصل کتاب ہے۔ اس میں قیامت تک پیش آنے والے تمام سوالات کا واضح جواب موجود ہے۔ مگر اللہ تعالی کی سنت التباس (الانعام (۹) کی بنا پر ان تمام جوابات میں شبہہ کا ایک عنصر بھی لازمی طور پر شامل ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں آج کا مسلمان جانچ کی میزان پر کھڑا ہوا ہے۔ اگر وہ شبہ کا پردہ پھاڑ کر قرآن کی طرف بڑھے تو وہ یقیناً اپنے مسائل کا قرآنی حل پا لے گا۔ اور اگر وہ شبہ کی بات میں اٹک جائے تو کوئی بھی آیت یا کوئی بھی حدیث اس کو رہنمائی دینے کے لئے کافی ثابت نہیں ہوگی۔ اب میں مسلمانوں کے موجودہ مسائل کے قرآنی حل پر کلام کروں گا۔ اس سلسلہ میں میری گفتگو کے تین حصے ہوں گے۔ اور ہر حصہ کی بنیاد قرآن کی ایک واضح آیت پر ہوگی۔

تحفظ کا مسئلہ

ہندوستان کے مسلمانوں ، خاص طور پر شمالی ہند کے مسلمانوں ، کے نزدیک ان کا نمبر ایک

‹ Previous page Next page › Contents of February 1991 All issues

Printed page