تحفظ کا مسئلہ
الرسالہ، فروری ۱۹۹۱، صفحہ ۲۱
مسئلہ جان و مال کے تحفظ کا مسئلہ ہے۔ وہ سب سے زیادہ اسی مسئلہ پر سوچتے ہیں۔ ان کی سرگرمیاں سب سے زیادہ اسی سوال پر مرتکز رہتی ہیں۔ اس سوال کو ذہن میں رکھ کر اگر ہم قرآن کو پڑھنا شروع کریں تو اس کو پڑھتے ہوئے ہم سورہ المائدہ کی اس آیت (نمبر ۶۷) پر پہنچیں گے جس میں تحفظ کے مسئلہ کا جواب نہایت واضح اور غیر مبہم انداز میں موجود ہے۔ وہ آیت یہ ہے : یَا اَيُّهَا الرَّسُوْلُ بَلِّغْ مَا اُنْزِلَ اے پیغمبر جو کچھ تمہارے اوپر تمہارے رب کی طرف اِلَيْكَ مِنْ رَّبِّكَ وَ اِنْ لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا سے اترا ہے اس کو پہنچا دو۔ اور اگر تم نے ایسا نہ کیا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهُ وَ اللهُ يَعْصِمُكَ تو تم نے اللہ کے پیغام کو نہیں پہنچایا۔ اور اللہ تم کو مِنَ النَّاسِ اِنَّ اللهَ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ لوگوں سے بچائے گا۔ اللہ یقیناً منکر لوگوں کو راہ الْكٰفِرِيْنَ نہیں دکھاتا۔
اس آیت پر غور کیجئے۔ اس میں عبارت النص کی سطح پر یہ بات نکل رہی ہے کہ عصمت من الناس کا راز دعوت الی اللہ میں چھپا ہوا ہے۔ جب بھی مسلمانوں کو محسوس ہو کہ ان کے لئے غیر اقوام کی طرف سے تحفظ کا مسئلہ پیدا ہو گیا ہے تو انھیں فوراً دعوت الی اللہ کے کام میں مشغول ہو جانا چاہئے اور اس کو اس کے تمام ضروری آداب کے ساتھ جاری رکھنا چاہئے۔ یہی تحفظ کے مسئلہ کا سب سے زیادہ یقینی حل ہے۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ جب کوئی قوم مسلمانوں کے ساتھ دشمنی کرتی ہے تو عین اس وقت بھی اس کے لئے ممکن نہیں ہوتا کہ وہ اپنے اندر خدا کی پیدا کی ہوئی فطرت کو بدل دے۔ یہ فطرت پیدائشی طور پر اسلام کی طالب ہوتی ہے۔ ہر آدمی اپنی ابتدائی فطرت کے اعتبار سے دین اسلام پر پیدا کیا گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مسلمانوں کا ہر دشمن امکانی طور پر ان کا دوست ہوتا ہے۔ کیونکہ اگر اس کی سوئی ہوئی فطرت کو جگا دیا جائے تو وہ اسلام قبول کر لے گا۔ اور جب وہ اسلام قبول کرلے گا تو وہ بھی مسلمانوں کی ملت میں شامل ہو کر ان کا جزو بن جائے گا۔ اور اس کے بعد مسلمانوں کا مسئلہ اپنے آپ ختم ہو جائے گا۔
تاریخ نے بار بار قرآن کے اس اصول کی تصدیق کی ہے۔ دور اول میں عرب کے مشرکین نے ابتدائے رسول اللہ کی سخت مخالفت کی مگر آپ ان کی مخالفت کو نظر انداز کرتے ہوئے صبر و حکمت
‹ Previous page Next page › Contents of February 1991 All issues