Al-Risala · February 1991 · page 22

تحفظ کا مسئلہ

الرسالہ، فروری ۱۹۹۱، صفحہ ۲۲

کے ساتھ انھیں اسلام کی دعوت دیتے رہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ صرف بیس سال کے مختصر عرصہ میں تمام عرب قبیلوں نے اسلام قبول کر لیا۔ جو لوگ بظاہر آپ کے دشمن تھے، وہ آپ کے دوست اور ساتھی بن گئے۔ اسلام کے سپاہی بن کر انھوں نے اسلام کی عالمی تاریخ بنائی۔

۱۳ ویں صدی عیسوی میں تاتاری قبائل ایک وحشی طوفان بن کر اٹھے اور انھوں نے سمر قند سے لے کر بغداد تک مسلمانوں کے تمام ملتی نشانات کو مٹا ڈالا۔ بغداد کی عباسی خلافت ان کی فوج کی یلغار کی تاب نہ لا کر ختم ہو گئی۔

مگر اس کے بعد کیا ہوا۔ مسلمانوں کے قومی کھنڈر سے اسلام کی دعوتی قوت ظاہر ہونا شروع ہوئی۔ اسلام کے عقیدہ نے فاتح تاتاریوں کو مسخر کرنا شروع کیا۔ یہاں تک کہ پچاس برس میں پوری تاریخ بدل گئی۔ مسلمانوں کے فاتح اسلام کے مفتوح بن گئے۔ ہلاکو نے مسلم دنیا کی جن مسجدوں کو ڈھایا تھا، اس کے پوتوں نے ان مسجدوں کو دوبارہ بنایا۔ اور ان مسجدوں میں خدا کے واحد کے سامنے جھک کر اپنے عجز کا اعتراف کیا۔

اسلامی تاریخ کا یہی واقعہ ہے جس کا ذکر علامہ اقبال نے ۱۹۳۰ میں آل انڈیا مسلم لیگ (الہ آباد) کے اجلاس میں اپنا خطبہ صدارت پڑھتے ہوئے اس طرح کیا تھا کہ مسلمانوں کی تاریخ سے مجھے یہ سبق ملا ہے کہ ان کی تاریخ کے نازک موقع پر پر یز اسلام تھا جس نے مسلمانوں کو بچایا یا نہ کہ مسلمانوں نے اسلام کو:

One lesson I have learnt from the history of Muslims. At critical moments in their history it is Islam that has saved Muslims and not vice versa. یہی بات اقبال نے عوامی انداز میں اپنے اس شعر میں کہی ہے :

ہے عیاں فتنہ تاتار کے افسانے سے پاسباں مل گئے کعبہ کو صنم خانے سے تاہم ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اقبال نے اس حقیقت کو ماضی کے اعتبار سے سمجھا۔ مگر اس کو انھوں نے حال کے اعتبار سے دریافت نہیں کیا۔ انھیں یہ تو دکھائی دیا کہ گزری ہوئی تاریخ میں اسلام کی دعوتی طاقت نے مسلمانوں کو بچایا ہے مگر حال کے اعتبار سے وہ اس طاقت کی اہمیت کو سمجھ نہ سکے۔ یہی وجہ ہے کہ انھوں نے ۱۹۳۰ میں جغرافیائی تقسیم پاکستان کو ہندوستان کے مسلمانوں کا حل بتایا۔ حالاں کہ

‹ Previous page Next page › Contents of February 1991 All issues

Printed page