تحفظ کا مسئلہ
الرسالہ، فروری ۱۹۹۱، صفحہ ۲۳
انہیں مسلمانوں کو یہ تلقین کرنا چاہئے تھا کہ تم غیر اقوام کے سامنے اسلام کی دعوت پیش کرو۔ اس کے بعد تمہارے مسائل اپنے آپ حل ہو جائیں گے جس طرح وہ ماضی میں حل ہو گئے۔
کسی قوم کے رہنما اور دانشور ہی وہ لوگ ہیں جو پوری قوم کا ذہن بناتے ہیں۔ ان کی تقریر میں اور تحریریں لوگوں کو کسی ایک طرف یا دوسری طرف لے جاتی ہیں۔ ہندوستانی مسلمانوں کی مشکل یہ ہے کہ ان کے رہنماؤں اور دانشوروں میں دعوتی ذہن موجود نہیں۔ وہ صرف قومی طرزِ فکر کو جانتے ہیں۔ اور ہمیشہ قومی طرزِ فکر کے مطابق لکھتے اور بولتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ انہیں ملک کے قومی مسائل تو دکھائی دیتے ہیں، مگر انہیں ملک کے دعوتی امکانات نظر نہیں آتے۔
اس کو سمجھنے کے لئے ایک مثال لیجئے ۔ ہندوستان میں کروڑوں کی تعداد میں وہ لوگ آباد ہیں جن کو اچھوت یا پست اقوام کہا جاتا ہے۔ ہندو مذہب اور روایات اس میں مانع ہیں کہ ان کو ملک میں برابر کا سماجی درجہ ملے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ لوگ مستقل طور پر مایوسی اور ذہنی انتشار میں مبتلا رہتے ہیں۔
ڈاکٹر امبیڈکر (۱۹۵۶-۱۸۹۳) ایک اچھوت خاندان میں پیدا ہوئے۔ مگر انہوں نے ملک کے اندر اور ملک کے باہر اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔ یہاں تک کہ وہ چوٹی کے دانشور بن گئے۔ اپنی ذہنی اور علمی خصوصیات کی بنا پر انھوں نے پوری اچھوت برادری میں واحد نمائندہ لیڈر کی حیثیت حاصل کرلی۔
ڈاکٹر امبیڈ کر کو اس بات کی بہت زیادہ فکر تھی کہ وہ اپنی قوم کو اوپر اٹھائیں اور ان کو ملکی سماج میں برابری کا درجہ دیں۔ ہندو ازم اور ہندو سماج کا گہرا مطالعہ کرنے کے بعد وہ اس نتیجہ پر پہنچے کہ ہندو دائرہ میں رہتے ہوئے وہ اپنی قوم کو یہ درجہ نہیں دلا سکتے۔ دوسری طرف اسلام کے مطالعہ نے انھیں بتایا کہ یہ مطلوبہ درجہ ان کو اور ان کی قوم کو نہایت کامیابی کے ساتھ حاصل ہو سکتا ہے اگر وہ اسلام کے دائرہ میں داخل ہو جائیں۔ چنانچہ انھوں نے ارادہ کیا کہ وہ اپنی پوری برادری کے ساتھ اسلام قبول کر لیں۔
اس سلسلہ میں انھوں نے مختلف تقریریں کیں اور مضامین لکھے ۔ مثال کے طور پر انھوں نے اپنے ایک مضمون میں لکھا کہ مجھے ایسا لگتا ہے کہ اسلام پست طبقات کو وہ سب کچھ دیتا ہے جس کی
‹ Previous page Next page › Contents of February 1991 All issues