حرف آخر
الرسالہ، فروری ۱۹۹۱، صفحہ ۳۷
ذہن کی کیسی عجیب خصوصیت ہے کہ ۵۰ سال پہلے کا واقعہ ایک سیکنڈ میں اس کو یاد آجاۓ۔ حالانکہ مجھے یاد نہیں آتا کہ زمانہ طالب علمی کے بعد دوبارہ کبھی اس کا ذکر آیا ہو۔ پھر ڈاک کا یہ نظام انسان کے لئے کتنی بڑی سہولت ہے۔ اگر موجودہ وسائل نہ ہوں تو مذکورہ مضمون کو حاصل کرنے کے لئے مجھے سولہ سو کلومیٹر کا سفر طے کرنے کی ضرورت پیش آتی۔ اس میں غاسب دو ماہ لگ جاتے۔ پھر فوٹو کاپی کی مشینیں کتنی بڑی نعمت ہیں جن کی وجہ سے یہ ممکن ہو گیا ہے کہ کسی چیز کا ویسا کا ویسا ہی عکس بلا تاخیر حاصل کر لیا جائے۔
یہ باتیں بظاہر بالکل معمولی ہیں، مگر معمولی چیز کو غیر معمولی چیز کے روپ میں دیکھنے ہی کا نام شکر ہے۔ اگر آدمی جذبہ شکر کے اپنے کے لئے انوکھے معجزہ کا انتظار کرنے تو وہ کبھی بھی خدا کا پما شکر گز ار نہیں ہو سکتا۔ کیوں کہ موجودہ دنیا میں ایسے اسباب شکر کسی کے لئے ظاہر ہونے والے ہی نہیں۔ علامہ موسی جار اللہ ۱۹۳۸ کے وسط میں روس سے پناہ گزیں کے طور پر ہندوستان آۓ تھے۔ مولانا امین احسن اصلاحی کا ان کے بارہ میں مضمون الاصلاح کے شمارہ جون ۱۹۳۸ میں چھپا تھا۔ اس مضمون میں بتایا گیا تھا کہ علامہ موسی جار اللہ عربی، فارسی، ترکی ، روسی اور فرینچ زبانیں بخوبی جانتے ہیں۔ علوم مشرقیہ کی مختلف شاخوں میں اچھی دستگاه رکھتے ہیں۔ عالم اسلام کی اس زمانہ کی تمام سیاسی اور مذہبی ہر گرمیوں کو قریب سے جانتے ہیں۔ وہ دو دن مدرسہ الاصلاح سرائیل، اعظم گڑھ، میں مقیم رہے۔
مولانا امین احسن اصلاحی کے مضمون کا ایک اقتباس یہ ہے: ”علامہ موسی جار اللہ نے مجھ سے سوال کیا کہ ہندوستان میں علوم عربیہ کی تعلیم جس نہج پر ہو رہی ہے ، تمہارے خیال میں اس کا آخری انجام کیا ہونے والا ہے۔ میں نے کہا کہ عربی تعلیم ، مدارس عربیہ اور ساتھ ہی مذہب کی تباہی۔ مجھے خیال تھا کہ علامہ اس کی تردید کریں گے لیکن انھوں نے اس کی حرف حرف تائید کی۔ “ میں نے اپنی تحریری زندگی شروع کی تو میں کمیونزم کا مخالف بن چکا تھا۔ کانگریس کا ڈائمنڈ جبلی سشن جنوری ۱۹۵۵ میں آوڈی (مدراس) میں ہوا تھا۔ اس موقع پر جواہر لَالَ نہرو کی تحریک پر کانگریس نے یہ تجویز منظور کی تھی کہ ہمارا مقصد ہندوستان میں سوشلسٹ طرز کا سماج بنانا ہے۔ اسی زمانہ میں میں نے اس کے بارہ (socialistic pattern of society)
‹ Previous page Next page › Contents of February 1991 All issues