Al-Risala · February 1991 · page 38

حرف آخر

الرسالہ، فروری ۱۹۹۱، صفحہ ۳۸

میں ایک مقالہ لکھا تھا جو "ہندوستان کی منزل : سوشلزم یا اسلام" کے نام سے چھپا تھا۔ اس میں دونوں نظاموں کا تقابل کرنے کے بعد آخر میں میں نے لکھا تھا :

پنڈت نہرو نے کہا ہے کہ ہندوستان کی منزل سوشلزم ہے۔

ہم کہتے ہیں : ہندوستان کی منزل اسلام ہے۔

اس کے بعد میں نے اس موضوع پر زیادہ جامع کتاب لکھی جو اپریل ۱۹۵۹ میں شائع ہوئی۔ اس کا نام تھا ، مارکسزم جس کو تاریخ رد کر چکی ہے۔ اس کے جلد ہی بعد اس موضوع پر میری دوسری کتاب اگست ۱۹۵۹ میں شائع ہوئی ۔ اس کا نام تھا ، سوشلزم ایک غیر اسلامی نظریہ۔ پچھلے ۳۵ سال کے اندر اس موضوع پر میں کم از کم ایک سو مضامین اور کتابیں اردو ، عربی اور انگریزی میں شائع کر چکا ہوں۔ ان تمام مضامین اور کتابوں میں ہمیشہ میں نے کمیونزم اور سوشلزم کی مخالفت کی ہے۔ ایک زمانہ میں بہت سے اسلام پسند (مثلاً ڈاکٹر نجات اللہ صدیقی وغیرہ) سوشلزم کی طرف مائل ہو چکے تھے اور اس کو اسلامی اصطلاحوں میں بیان کرنے کی کوشش کرتے تھے۔ مگر میں ہمیشہ اس نظریہ کا مخالف رہا۔

سوویت روس کی موجودہ حکومت کا میرے جیسے ایک "مخالف" کو اپنے ملک میں بلانا کوئی سادہ واقعہ نہیں۔ یہ ایک نہایت اہم واقعہ ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جدید سیکولرزم کی وہ کون سی خصوصیت ہے جو اس کو سار سے عالم پر غالب کئے ہوئے ہے۔ وہ یہی فراخ دلی اور ہر داشت ہے۔ مغربی جمہوریت جس کو اب روس اختیار کر رہا ہے ، وہ موافق اور مخالف کی اصطلاحوں سے اوپر اٹھ کر لوگوں سے معاملہ کرتی ہے وہ اپنے ایک مخالف کی پذیرائی کے لئے بھی تیار رہتی ہے۔ اس کی اسی صفت نے اس کو یہ طاقت دی ہے کہ وہ ساری دنیا پر غلبہ حاصل کر سکے۔

موجودہ زمانہ کے اسلامی اداروں کا حال اس معاملہ میں بالکل برعکس ہے۔ ان کے یہاں صرف اپنے موافق کے لئے جگہ ہے۔ جس شخص کو وہ اپنا مخالف سمجھ لیں ، اس کے سایہ سے بھی وہ نفرت کرنے لگتے ہیں۔ ایک شخص اگر کسی اسلامی ادارہ کے اکابر پر تنقید کر دے تو اس کی تنقید خواہ کتنی ہی علیٰ اور مدلل کیوں نہ ہو ، اس کے بعد وہ شخص اس ادارہ کی نظر میں اتنا مبغوض ہو جائے گا کہ وہ معقول انداز میں اس کا نام بھی نہیں لے سکتے ، کجا کہ اس کو اپنے ادارہ کے کسی پرو گرام میں شرکت کے لئے بلائیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 1991 All issues

Printed page