حرف آخر
الرسالہ، فروری ۱۹۹۱، صفحہ ۴۰
"فلم شو" کی صورت میں آپ کو یہی دکھا دیا ہے۔
اس "فلم شو" کو دیکھنے کے بعد مجھے احساس ہوا کہ یہ بھی اللہ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے۔ قرآن میں جنت کے بارے میں کہا گیا کہ و أتوا به متشا لها (البقرہ ۲۵) اس سے معلوم ہوتا ہے کہ دنیا کی چیزیں آخرت کی چیزوں کا تمثیلی تعارف ہیں۔ اسی کا ایک نمونہ یہ "فلم شو" بھی ہے۔ جدید تکنیک نے اس کو ممکن بنا دیا کہ "مسلم روس" کو واضح تصویروں کی صورت میں دہلی کے اندر پیشگی طور پر دیکھا جاسکے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے موجودہ دنیا کو اس طرح بنایا ہے کہ دیکھنے والی آنکھیں موت سے پہلے کی دنیا میں موت کے بعد والی دنیا کو پیشگی طور پر تمثیل کے روپ میں دیکھ سکتی ہیں۔ ۲۸ جولائی ۱۹۹۰ کی شام کو روانگی ہوئی۔ دفتر سے نکل کر گاڑی پر بیٹھا تو دل سے بے اختیار یہ دعا نکلی: خدا یا خیریت کے ساتھ لے جایئے اور خیریت کے ساتھ واپس لائیے۔ دنیا اور آخرت میں خیریت کا معاملہ فرمائیے۔
دہلی میں میں نے ۱۹۷۲ سے ہوں۔ یہاں کی مانوس سڑکوں سے گزرتے ہوئے جب میں ایئر پورٹ کی طرف جا رہا تھا تو خیال آیا کہ زندگی نام ہے مانوس راہوں میں نامانوس سفر طے کرنے کا۔ خارجی ظواہر میں اندرونی حقائق کو پالینے کا جو لوگ صرف دیکھے کو جانیں انھوں نے نہیں دیکھا۔ جو لوگ اُن دیکھے کو پالیں وہی دراصل وہ لوگ ہیں جن کو جاننے والا کہا جائے۔
قرآن کے مطابق، حیات دنیا کا ایک ظاہر ہے اور اسی کے ساتھ حیات دنیا کا ایک باطن ہے (الروم ،)، ایک مفسر نے اس آیت کی تشریح ان الفاظ میں کی ہے کہ انھوں نے چھلکے کو جانا اور وہ مغز کو نہ جان سکے وانهم عرفوا القشور ولم يعرفوا اللباب، دنیا کے دکھائی دینے والے مناظر میں اللہ تعالیٰ نے نہ دکھائی دینے والی آخرت کی نشانیاں چھپا دی ہیں ۔ وہی لوگ حقیقہ آنکھ والے ہیں جنھوں نے دکھائی دینے والی دنیا میں نہ دکھائی دینے والی آخرت کا مشاہدہ کر لیا۔ مغرب اور عشا کی نماز ایئر پورٹ پر وی آئی پی لاؤنج میں پڑھی۔ لاؤنج کے باہر دہلی کا موسم گرم تھا۔ مگر لاؤنج کے اندر مجھے سویٹر پہننا پڑا۔ ایئر کنڈیشنگ کے ذریعہ مصنوعی طور پر موسم کو بدل لینا بظاہر اچھی بات ہے۔ مگر یہ سہولت آدمی کو صرف اس قیمت پر ملتی ہے کہ وہ "نیچر" سے بے تعلق ہو جائے۔ اس کو انسانی مصنوعات کی خبر ہو ، مگر خدائی مصنوعات اس کے لئے لا معلوم چیز بن جائیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 1991 All issues