Al-Risala · February 1991 · page 41

حرف آخر

الرسالہ، فروری ۱۹۹۱، صفحہ ۴۱

دہلی سے ایروفلاٹ کی پرواز ۴۵۷ کے ذریعہ روانگی ہوئی۔ جہاز میں ہر چیز کا معیار یورپ کی اچھی ہوائی کمپنیوں سے کم نظر آیا۔ اشتراکی روس نے جنگی صنعت کی ترقی میں بہت زیادہ توجہ دی۔ مگر انسان کے وسائل محدود ہیں۔ ایک شعبہ میں بہت زیادہ آگے بڑھنا ہمیشہ اس قیمت پر ہوتا ہے کہ آدمی دوسرے شعبوں میں پیچھے رہ جائے۔ یہی روس کے ساتھ ہوا۔ جنگی صنعت میں تقدم کا نتیجہ اس کے لئے غیر جنگی شعبوں میں تخلف کی صورت میں برآمد ہوا۔ گورباچوف کا پروسترائیکا (re-structuring) روسی زندگی میں اسی عدم توازن کو ختم کرنے کی ایک کوشش ہے۔

جہاز میں ایروفلاٹ کا میگزین "سوویٹ ایئر لائنز" موجود تھا۔ ایک مضمون میں بتایا گیا تھا کہ سیکڑوں روسی ہوابازوں میں سے پانچ کو ہیرو ازم اور بہت (courage) کی بنا پر خصوصی انعام دیا گیا۔ ناموں سے اندازہ ہوا کہ ان میں سے ایک مسلمان ہواباز تھے۔ ان کا نام میجر رشید بتایا گیا تھا۔ ان کا جہاز فضا میں سخت حالات کا شکار ہوگیا۔ مگر انھوں نے غیر معمولی محنت اور مہارت سے کام لے کر جہاز کو اور اس کے مسافروں کو بچالیا۔ مگر جب ان کا جہاز زمین پر اترا تو ان کا حال یہ تھا کہ وہ اپنی سیٹ سے اپنے آپ نہیں اٹھ سکتے تھے۔ انھوں نے جہاز کو بچانے کے لئے اپنی ساری طاقت خرچ کردی تھی :

But when the plane came to a standstill he could not leave the cabin by himself. He had no strength left (p. 3). یہ جان کر خوشی ہوئی کہ مسلمان یہاں کی اعلی سروسوں میں ہیں۔ مزید یہ کہ انھوں نے اپنی غیر معمولی کارکردگی سے نمایاں درجہ حاصل کر لیا ہے۔

درمیان میں جہاز ایک گھنٹہ کے لئے تاشقند میں رکا لیڈنگ اتنی اچھی تھی کہ یہ محسوس ہی نہیں ہوا کہ کب وہ اُتر ہا تھا اور کب زمین پر اتر گیا۔ اکثر مسافر تاشقند ایئر پورٹ دیکھنے کے لئے اترے۔ میں بھی اترا۔ یورپی معیار کے لحاظ سے ہوائی اڈہ کم تر معیار کا تھا۔ "ٹرانزٹ پاس" سے لے کر کرسیوں اور ٹوائلٹ تک ہر چیز نسبتاً معمولی تھی۔

ہوائی اڈہ موجودہ زمانہ میں قوموں کی ترقی کا معیار سمجھا جاتا ہے۔ اس کو دیکھتے ہوئے مجھے خیال آیا کہ روس کی موجودہ تبدیلیاں گویا فطرت انسانی کی چیخ ہیں۔ ستر برس کے ناکام تجربہ کے بعد

‹ Previous page Next page › Contents of February 1991 All issues

Printed page