حرف آخر
الرسالہ، فروری ۱۹۹۱، صفحہ ۴۲
یہاں کے انسان کی فطرت چیخ اٹھی کہ ہم کب تک مارکس کے مصنوعی نظام کا بوجھ اپنے اوپر لادے رہیں جس نے ہمیں دنیا کی قوموں سے پیچھے کر دیا۔
تاشقند ازبیک علاقہ کی راجدھانی ہے۔ اس کی تاریخ دوسری صدی قبل مسیح تک جاتی ہے۔ از بیک زبان میں تاشقند کے معنی ” پتھر کا گاؤں“ ہیں۔ مگر آج وہ ماسکو، لینن گراڈ اور خیف کے بعد سوویت یونین کا چوتھا سب سے بڑا شہر ہے۔ عربوں نے اس شہر کو آٹھویں صدی عیسوی میں فتح کیا تھا۔ تیرہویں صدی میں اس پر منگولوں نے قبضہ کر لیا۔ مگر منگولوں کے قبول اسلام کے بعد وہ بدستور مسلم سلطنت کا ایک جز رہا۔ ۱۹۱۷ء سے اس پر کمیونسٹ روس کا قبضہ ہے۔ سابق وزیر اعظم ہند لال بہادر شاستری نے اسی مقام پر پاکستان کے ساتھ ۱۰ جنوری ۱۹۶۶ کو ” تاشقند معاہدہ “ پر دستخط کئے تھے جس کے اگلے دن حرکت قلب بند ہونے کی وجہ سے ان کا انتقال ہو گیا۔ تاشقند ہی میں قرآن کا وہ نسخہ موجود ہے جس کو مصحف عثمان کہا جاتا ہے۔ خلیفہ سوم عثمان رضی اللہ عنہ نے قرآن کے پانچ مکمل نسخے تیار کرائے۔ اس کے بعد مکہ، بصرہ، کوفہ اور دمشق میں ایک ایک نسخہ رکھوایا، اور ایک نسخہ اپنے پاس رکھا۔
کہا جاتا ہے کہ یہی عثمانی نسخہ پہلی صدی ہجری میں سمرقند پہنچا۔ پھر ۱۸۶۹ء میں اس کو قیصر روس نے حاصل کیا اور اس کو پیٹرس برگ کی سرکاری لائبریری میں محفوظ کر دیا۔ تاہم اس سلسلہ میں دوسری روایتیں بھی ہیں۔ مثلاً کہا جاتا ہے کہ تیمور نے جب دمشق پر قبضہ کیا تو وہاں سے اس نے مصحف عثمان کو حاصل کیا اور اس کو اپنے ساتھ سمرقند لے آیا۔ امین الخولی مصری جامعۃ الازہر کے استاد تھے۔ ان کی ایک عربی کتاب ہے جس کا نام ہے : الارتباطات بين النيل والفولغا۔ اس کتاب میں انھوں نے اس مسئلہ پر بحث کی ہے کہ مصحف عثمانی کس طرح تاشقند پہنچا۔ تاہم انھوں نے مختلف روایات کو جمع کر دیا ہے۔ کسی ایک روایت کو انھوں نے ترجیح نہیں دی۔
اس علاقہ کے مسلمان اول روز سے یہ چاہتے تھے کہ حکومت روس یہ مصحف ان کے حوالے کر دے۔ مگر قدیم دور میں انھیں کامیابی نہ ہو سکی۔ ۱۹۱۷ء کے اشتراکی انقلاب کے بعد مسلمانوں نے دوبارہ مشورہ کیا اور ایک وفد اس سلسلہ میں لینن کے پاس بھیجا گیا۔ لینن نے مسلم وفد کی بات سننے کے بعد اس سے اتفاق کیا اور اسی وقت حکومت کے متعلقہ ذمہ دار کے نام مصحف کی واپسی کے
‹ Previous page Next page › Contents of February 1991 All issues