Al-Risala · February 1991 · page 43

حرف آخر

الرسالہ، فروری ۱۹۹۱، صفحہ ۴۳

لئے ایک خط لکھا جس پر ۹ دسمبر ۱۹۱۶ء کی تاریخ درج تھی۔ اس خط کا عربی ترجمہ میں نے المفتی ضیاء الدین خان بن ایشان با باخان کی عربی کتاب الاسلام والمسلمون فى البلاد السوفيتية میں دیکھا ہے (صفحه ۸۶-۸۷)

اس مصحف کے کچھ صفحات ضائع ہوگئے ہیں۔ موجودہ مصحف میں کل ۲۵۵ صفحات ہیں۔ ۱۹۲۳ تک وہ شہر اونٹ میں تھا۔ ۱۹۲۳ میں اس کو خصوصی اہتمام کے ساتھ سمرقند لایا گیا اور شہر کی جامع مسجد خواجہ احرار میں رکھا گیا۔ ۱۹۴۳ سے وہ ایک میموزیم میں ہے جو خاص اسی کے نام پر بنایا گیا ہے۔

تاجقستان سوویت خطہ میں واقع ہے جس کو سنٹرل ایشیا کہا جاتا ہے۔ روس کے مشہور عالم المفتی ضیاء الدین خان بن ایشان بابا خان نے اپنی ۲۸۵ صفحہ کی کتاب (الاسلام والمسلمون في البلاد والسوفيتيه) میں بتایا ہے کہ اسلام یہاں سب سے پہلے آذربائیجان اور داغستان میں پہنچا۔ یہ خلیفہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں ساتویں صدی عیسوی کا واقعہ ہے۔ اس کے بعد اسلام پورے سنٹرل ایشیا میں پھیل گیا جو اس زمانہ میں ماورا النہر کہا جاتا تھا۔ خلفاء بنی امیہ نے اس علاقے میں کثرت سے ایسے مسلمان بھیجے جو یہاں اسلام کی اشاعت کریں اور لوگوں کو قرآن اور عربی زبان کی تعلیم دیں۔ انھیں میں سے ایک قثم بن عباس بن عبد المطلب بھی تھے جن کی قبر آج بھی سمرقند میں موجود ہے۔ دسویں صدی عیسوی تک اس علاقہ کے قبائل بہت بڑی تعداد میں اسلام قبول کر چکے تھے۔

سنٹرل ایشیا سے اسلام کی زبردست تاریخ وابستہ ہے۔ اس علاقہ سے اسلام کی نہایت ممتاز اسلامی شخصیات اٹھیں۔ مثلاً محمد بن اسماعیل البخاری، محمود الزمخشری، ابونصر الفارابی، ابو علی بن سینا، ابوعیسی الترمذی، وغیرہ۔

۲۹ جولائی کی صبح کو ہمارا جہاز ماسکو ایئر پورٹ پر اترا۔ لینڈنگ حیرت انگیز حد تک ”اسموتھ“ تھی۔ جہاز کی خاتون اناؤنسر نے جب اعلان کیا کہ "اب آپ ماسکو میں ہیں" تو اچانک مجھے خیال آیا کہ اسی طرح ایک روز خدا کے فرشتے مجھے ایک سفر کرائیں گے اور منزل پر پہنچ کر اعلان کریں گے کہ "اب تم عالم آخرت میں ہو"۔ ماسکو بھی میرے لئے ایک نئی دنیا ہے اور آخرت بھی میرے لئے نئی

‹ Previous page Next page › Contents of February 1991 All issues

Printed page