حرف آخر
الرسالہ، فروری ۱۹۹۱، صفحہ ۴۴
دنیا ہوگی۔ مگر دونوں میں فرق یہ ہے کہ ” ماسکو“ میرے سفر حیات کی صرف درمیانی منزل ہے، جب کہ ” آخرت“ میرے سفر حیات کی آخری منزل ہوگی۔ ماسکو ہوائی اڈہ پر تو میرے استقبال کے لئے حکومت کے نمائند نے آئے ہوئے ہیں۔ یہاں میرے سفر کے لئے گاڑی موجود ہے اور قیام کے لئے ہوٹل کا کمرہ پیشگی طور پر رزرو کر دیا گیا ہے۔ مگر آخرت کی دنیا میں میرے اوپر کیا بیتے گی، اس کو احکم الحاکمین کے سوا کوئی اور نہیں جانتا۔
ماسکو کا ہوائی اڈہ تاشقند کے ہوائی اڈہ سے بہتر تھا۔ مگر جدید معیار جو جدہ ، روم ، فرینکفرٹ جنیوا وغیرہ میں نظر آتا ہے، اس کے لحاظ سے اس کو صرف دوسرے درجہ کا کہا جا سکتا ہے۔ ہوائی اڈہ کی ہر چیز اعلیٰ معیار سے کم تر تھی۔ سوویت روس نے جنگی طاقت میں امریکہ کی برابری (parity) حاصل کر لی ہے۔ مگر اس کی قیمت اس کو یہ دینی پڑی کہ وہ دوسری چیزوں میں غیر برابر ہو کر رہ گیا۔ یہ سوویت روس کو مارکسزم کا تحفہ ہے۔
ائیر پورٹ سے ہوٹل کا راستہ تقریباً پون گھنٹہ کا تھا۔ مسٹر الکسی گالکن (Alexei Galkin) بطور گائیڈ ساتھ تھے۔ ہلکی بارش ہو رہی تھی۔ فضا میں کہی تھی۔ اس لئے اطراف کے مناظر بہت زیادہ صاف نہیں دکھائی دے رہے تھے۔ تاہم ایک چیز نمایاں تھی۔ سڑک کے دونوں طرف جو عمارتیں نظر آئیں وہ زیادہ تر کثیر منزلہ تھیں۔ اگر آپ دبئی ایئر پورٹ سے شارجہ کی طرف جائیں تو آپ کو وہاں کی بیشتر عمارتیں یک منزلہ یا دو منزلہ دکھائی دیں گی۔ یہاں کی بیشتر عمارتیں کثیر منزلہ تھیں۔ اس فرق کا سبب سمجھ میں نہیں آیا۔ شاید وہاں کے لوگ افقی ترقی (horizontal growth) پر یقین رکھتے ہیں اور یہاں کے لوگ عمودی ترقی (vertical growth) پر۔
ماسکو میں میرا قیام جس ہوٹل میں تھا اس کا نام از مائیلوف (Izmailovo) تھا۔ یہ ۳۰ منزلہ ہے۔ اس ہوٹل کے کمرہ نمبر ۱۰۲۹ میں مجھے ٹھہرایا گیا۔ کمرہ کافی اچھا تھا۔ تاہم اس کمرہ کی سب سے ممتاز چیز وہ تھی جس کو میں استعمال نہ کر سکا۔ اور وہ ٹی وی سیٹ تھا۔ بظاہر اس کی کوالٹی اچھی تھی۔ مگر بدقسمتی سے اس معاملہ میں میں بہت بے ذوق واقع ہوا ہوں۔ کمرہ میں ٹی وی کا خصوصی اہتمام یہاں کے نظام کی علامت تھا۔ کیوں کہ کمیونسٹ نظام کے تحت سوویت روس میں اسلحہ کی تیاری کے بعد دوسری جس چیز پر سب سے زیادہ توجہ دی گئی وہ پلیٹ تھی ۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 1991 All issues