امریکہ کے زمانۂ قیام میں
الرسالہ، فروری ۱۹۹۲، صفحہ ۴۸
ڈاکٹر حمید اللہ ندوی اور مولانا محمد صدیق قاسمی بھوپال سے اطلاع دیتے ہیں کہ بھوپال میں نیشنل بک ٹرسٹ کی طرف سے آل انڈیا کتابوں کی نمائش بک فیر، کا اہتمام کیا گیا۔ اس موقع پر الرساله بک اسٹال لگایا گیا جو الحمد للہ بہت کامیاب رہا۔ بڑی تعداد میں لوگوں نے آکر کتابیں دیکھیں اور پسندیدگی کا اظہار کیا۔ ۱۱ اسٹالوں میں الرساله بک اسٹال کو منتظمین کی طرف سے فرسٹ انعام دیا گیا۔ تعلیم یافتہ ہندوؤں کی طرف سے بہت سے تاثرات سامنے آئے۔ مثلاً ایک ہندو صحافی نے کہا کہ میں نے قرآن کے بارہ میں بہت سی ہندی چیزیں پڑھی ہیں۔ مگر موجودہ حالات میں صرف تذکیر القرآن کو اس معیار کا سمجھتا ہوں کہ وہ غیر مسلم کو ضرور اپیل کرے گی۔ شولاپور کے احباب الرسالہ اردو، ہندی، انگریزی کے ایک ایک صفحہ کے منتخب مضامین چھوٹے سائز پر فوٹو کاپی تیار کرتے ہیں اور پھر اس کو مسجدوں میں اور دوسرے مقامات پر تقسیم کرتے ہیں۔
ایک صاحب لکھتے ہیں : ضلع آکولہ کی گنج کی مسجد میں کچھ شرپسندوں نے ۱۲ اکتوبر ۱۹۹۱ کی صبح کو دو خنزیر مار کر ڈال دئے۔ خنزیر کو مسجد میں پھینکنے پر مسلمانوں کا مشتعل ہو جانا یقینی تھا جس کا نتیجہ فساد ہوتا لیکن کچھ امن پسند مسلم حضرات کی کوششوں سے معاملہ پولیس کے سپرد کر دیا گیا۔ اور اس طرح ایک زبر دست فساد ہوتے ہوتے رہ گیا۔ میں سمجھتا ہوں کہ اعراض کی یہ پالیسی الرسالہ کے مطالعہ سے ہماری سمجھ میں آئی ہے (عبد الرشید صدیقی ، آکولہ) ایک صاحب لکھتے ہیں : میرے ہاتھوں میں ماہنامہ الرسالہ کا ایک پرانا پر چہ ہے۔ پر دہ کہ بے انتہا مت اثر ہوا۔ اس کے بعد مزید پرانے پر چے حاصل کر کے پڑھے۔ دل و دماغ کو تسکین حاصل ہوئی۔ اب میں نے فیصلہ کیا ہے کہ کم از کم پانچ خریدار بن کر الرسالہ کی ایجنسی قائم کروں۔ ایک پرچہ اپنے پاس رکھوں اور بقیہ کو دوسروں تک پہنچا کر اسلام کے مشن میں تعاون کروں ۔ براہ کرم میرے نام ایجنسی جاری کر دیں (ماسٹر محمد یونس خاں ، اندور)
۲ اکتوبر ۱۹۹۱ کو گول مارکیٹ (نئی دہلی) میں ایک اجتماع ہوا۔ اس میں اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد شریک ہوئے۔ صدر اسلامی مرکز نے اس موقع پر مسائل حاضرہ کے موضوع پر خطاب کیا۔ اس تقریر کا ٹیپ مرکز میں موجود ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 1992 All issues