Al-Risala · March 1992 · page 8

ارکان اسلام

الرسالہ، مارچ ۱۹۹۲، صفحہ ۸

ارکان اسلام

عن عبد الله بن عمر قال قال رسول الله حضرت عبد اللہ بن عمر کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ صلى الله عليه وسلم - بني الاسلام علی علیہ وسلم نے فرمایا۔ اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر رکھی خمس شهادة أن لا إله إلا الله و أن محمداً گئی ہے۔ اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے سوا عبده ورسوله وإقام الصلاة وإيتاء کوئی معبود نہیں اور یہ کہ محمد اس کے بندے اور الزكاة والحج وصوم رمضان رسول ہیں۔ اور نماز قائم کرنا اور زکوٰۃ دینا اور (متفق عليه) حج کرنا اور رمضان کے روزے رکھنا۔

اس حدیث کے مطابق ، اسلام میں پانچ چیزیں ستون (pillars) کی حیثیت رکھتی ہیں۔ جس طرح عمارت کچھ ستونوں پر کھڑی ہوتی ہے، اسی طرح اسلامی زندگی پانچ ارکان پر قائم ہوتی ہے۔ یہ پانچ ارکان بظاہر پانچ شکلی چیزوں کے نام ہیں۔ یعنی کلمہ ایمان کے الفاظ کو دہرانا۔ صلاۃ کے ڈھانچہ کو قائم کرنا، زکوٰۃ کی مقررہ رقم نکالنا، حج کے مراسم کو ادا کرنا، رمضان کے صوم کا اہتمام کرنا۔ مگر اس کا مطلب شکل برائے شکل نہیں بلکہ شکل برائے اسپرٹ ہے۔ یعنی ان شکلی احکام کی ایک حقیقت ہے اور ان کی وہی ادائیگی معتبر ہے جس میں اس کی حقیقت پائی جائے۔ اس دنیا میں ہر چیز کا معاملہ یہی ہے۔ مثلاً ٹیلیفون کو لیجئے۔ جیسا کہ معلوم ہے ، ٹیلیفون کی ایک ظاہری صورت ہوتی ہے۔ مگر یہی ظاہری صورت وہ چیز نہیں ہے جو اصلاً ٹیلیفون سے مطلوب ہو۔ ٹیلیفون برائے ٹیلیفون مطلوب نہیں ہوتا بلکہ ٹیلیفون برائے رابطہ مطلوب ہوتا ہے۔ اگر آپ کہیں کہ میرے پاس ٹیلیفون ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں ہوگا کہ ٹیلیفون کی صورت آپ کے پاس موجود ہے اس کا مطلب یہ ہوگا کہ ٹیلیفون کی حقیقت آپ کے پاس موجود ہے۔ یعنی ایک ایسی مشین جس کے ذریعہ دنیا کے ہر حصہ سے رابطہ قائم کیا جاسکے۔ جس کے ذریعہ دور کے لوگوں سے گفتگو کی جاسکے۔ یہی معاملہ اسلام کے مذکورہ پانچ ارکان کا بھی ہے۔ یہ ارکان اسی وقت ارکان اسلام ہیں جب کہ ان کو اس طرح اختیار کیا جائے کہ ان کی شکل کے ساتھ ان کی معنوی روح بھی آدمی کے اندر پائی جارہی ہو۔ روح کو جدا کرنے کے بعد شکل کا موجود ہونا ایسا ہی ہے جیسے اس کا موجود نہ ہونا۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 1992 All issues

Printed page