Al-Risala · March 1992 · page 6

ارکان اسلام

الرسالہ، مارچ ۱۹۹۲، صفحہ ۶

ایمان اسپرٹ _ سب سے پہلا رکن ایمان ہے۔ اس کی ظاہری صورت کلمہ اسلام کی زبان سے ادائیگی ہے۔ اور اس کی معنوی اسپرٹ اعتراف ہے۔ اس کلمہ کے ذریعہ ایک انسان خدا کا اس کے تمام صفات کمال کے ساتھ اعتراف کرتا ہے۔ وہ محمد عربی کی اس حیثیت کا اعتراف کرتا ہے کہ خدا نے ان کو میرے لئے اور تمام انسانوں کے لئے ابدی رہنما بنایا۔ یہ حقیقت جس کے دل میں اتر جائے وہ اس کی پوری نفسیات میں شامل ہو جاتی ہے۔ ایسے آدمی کا سینہ سچائی کے اعتراف کے لئے کھل جاتا ہے۔ وہ ایک ایسا انسان بن جاتا ہے جس کے لئے کوئی بھی چیز کبھی حق کے اعتراف میں رکاوٹ نہ بن سکے۔

صلاۃ اسپرٹ _ صلوٰۃ کی ظاہری صورت پنج وقتہ عبادت ہے اور اس کی معنوی اسپرٹ تواضع ہے۔ صلوٰۃ کا عمل کرنے والا آدمی اپنے رب کے آگے جھکتا ہے۔ اس طرح وہ اپنے اندر تواضع کی نفسیات پیدا کرتا ہے۔ جس آدمی کے اندر صلاۃ اسپرٹ پیدا ہو جائے وہ گھمنڈ اور انانیت جیسی چیزوں سے یکسر خالی ہو جائے گا۔ اس کا رویہ ہر معاملہ میں تواضع کا رویہ بن جائے گا نہ کہ فخر اور کبر کا رویہ۔

زکاۃ اسپرٹ _ زکاۃ کی ظاہری صورت سالانہ ایک مخصوص رقم کی ادائیگی ہے اور اس کی معنوی اسپرٹ خدمت ہے۔ جو آدمی زکاۃ کا عمل کرے اس کے اندر خلق کے لئے خدمت اور خیر خواہی کا عمومی جذبہ پیدا ہو جائے گا۔ وہ چاہے گا کہ وہ دنیا میں اس طرح رہے کہ وہ دوسروں کے لئے زیادہ سے زیادہ مفید بن سکے۔

حج اسپرٹ _ حج اپنے ظاہر کے اعتبار سے سالانہ مراسم کی ادائیگی ہے اور اس کی معنوی اسپرٹ اتحاد ہے۔ جو آدمی صحیح کیفیت کے ساتھ حج کے فرائض ادا کرلے اس کے اندر اختلافی نفسیات کا خاتمہ ہو جائے گا ، وہ اتحاد و اتفاق کے مزاج کے ساتھ لوگوں کے درمیان رہنے لگے گا ، حتیٰ کہ اس وقت بھی جب کہ دوسروں کے ساتھ اس کا اختلاف پیش آگیا ہو۔ صوم اسپرٹ _ صوم کی ظاہری صورت رمضان کے مہینہ کا روزہ ہے اور اس کی معنوی اسپرٹ صبر ہے۔ صوم کا مقصد یہ ہے کہ آدمی کے اندر صبر کی ایسپرٹ پیدا ہو۔ جو آدمی صوم کا عامل ہو ، اس کے اندر یہ عمومی مزاج پیدا ہو جائے گا کہ وہ ناخوش گوار باتوں کو برداشت

‹ Previous page Next page › Contents of March 1992 All issues

Printed page