Al-Risala · March 1992 · page 7

ارکان اسلام

الرسالہ، مارچ ۱۹۹۲، صفحہ ۷

کرے ، وہ لوگوں کی قابل شکایت باتوں کو نظر انداز کرتے ہوئے زندگی گزارے۔

جو لوگ اسلام کے ان پانچ ارکان کو محض ان کی شکل کے اعتبار سے اختیار کریں، وہ مخصوص شکل کی حد تک تو ان کو اپنائیں گے ، مگر ان شکلوں کے باہر ان کی زندگی ان ارکان سے بالکل آزاد اور غیر متعلق ہوگی۔

مثلاً وہ کلمہ ایمان کے الفاظ کو اپنی زبان سے دہرائیں گے ، مگر ان مخصوص الفاظ کے باہر جب ان کے سامنے کوئی حق آئے گا تو وہ اس کا اعتراف نہ کر سکیں گے، کیوں کہ ان کی روح کلمہ کی اسپرٹ سے خالی ہے۔ وہ نماز کی شکل کو مسجد میں کھڑے ہو کر دہرائیں گے۔ مگر مسجد کے باہر جب لوگوں کے ساتھ ان کا سابقہ پیش آئے گا تو وہاں وہ تواضع کا انداز اختیار نہ کر سکیں گے، اور اس کی وجہ یہ ہوگی نماز کی جو اسپرٹ ہے وہ ان کے اندر موجود نہیں۔

اسی طرح وہ زکوٰۃ کے نام پر ایک رقم نکال کر کسی کو دیدیں گے۔ مگر اس کے بعد جب وہ لوگوں کے ساتھ معاملات کریں گے تو اس میں وہ خیر خواہی کا ثبوت نہ دے سکیں گے، کیوں کہ زکوٰۃ اسپرٹ سے ان کا سینہ خالی تھا۔ وہ اہتمام کے ساتھ حج کا سفر کریں گے اور اس کے مراسم ادا کرکے واپس آجائیں گے۔ مگر وہ اس کے لئے تیار نہ ہوں گے کہ لوگوں کی طرف سے پیش آنے والی شکایتوں کو نظر انداز کرتے ہوئے ان کے ساتھ اتحاد واتفاق کا معاملہ کریں۔ کیوں کہ انھوں نے حج کے باوجود حج اسپرٹ اپنے اندر پیدا نہیں کی۔ رمضان کا مہینہ آئے گا تو وہ موسمی عبادت کے طور پر ایک مہینہ کا روزہ رکھ لیں گے۔ مگر وہ صبر کے موقع پر صبر نہیں کریں گے۔ وہ ہر اشتعال پر مشتعل ہو کر لڑنے لگیں گے۔ اور اس کی وجہ یہ ہوگی کہ ظاہری طور پر انھوں نے روزہ تو رکھ لیا ، مگر ان کے دل ودماغ میں روزہ کی اسپرٹ پیدا نہ ہوسکی۔ جو آدمی اسلام کے پانچ ارکان کو اختیار کرلے وہ مومن و مسلم ہو گیا۔ وہ اس کا مستحق ہوگیا کہ دنیا میں اس کو اللہ کی رحمت ملے اور آخرت میں اس کو جنت میں داخل کیا جائے ۔ مگر اسلام کے پانچ ارکان اپنی شکل اور روح دونوں کے اعتبار سے مطلوب ہیں۔ ان کی ادائیگی پر جن انعامات کا وعدہ ہے اس کا تعلق کامل ادائیگی پر ہے نہ کہ ادھوری ادائیگی پر۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 1992 All issues

Printed page