Al-Risala · March 1992 · page 8

روزہ کا حکم

الرسالہ، مارچ ۱۹۹۲، صفحہ ۸

روزہ کا حکم

قرآن میں روزہ کا حکم سورہ البقرہ میں کسی قدر تفصیل کے ساتھ آیا ہے۔ یہاں قرآن کی ان آیتوں کا ترجمہ نقل کیا جاتا ہے :

اے ایمان والو ، تم پر روزہ فرض کیا گیا جس طرح تم سے پہلے کی امتوں پر فرض کیا گیا تھا، تا کہ تم پر ہیز گار بنو گنتی کے چند دن۔ پھر تم میں سے جو شخص بیمار ہو یا سفر پر ہو تو وہ دوسرے دنوں میں تعداد پوری کرلے۔ اور جن کو طاقت ہے تو ایک روزہ کا بدلہ ایک مسکین کا کھانا ہے۔ جو کوئی مزید نیکی کرے تو وہ اس کے لیے بہتر ہے۔ اور تم روزہ رکھو تو یہ تمہارے لیے زیادہ بہتر ہے، اگر تم جانو۔ رمضان کا مہینہ جس میں قرآن اتارا گیا، ہدایت ہے لوگوں کے لیے اور کھلی نشانیاں راستہ کی۔ اور حق و باطل کے درمیان فیصلہ کرنے والا ۔ پس تم میں سے جو شخص اس مہینہ کو پائے وہ اس کے روزے رکھے ۔ اور جو بیمار ہو یا سفر پر ہو تو دوسرے دنوں میں گنتی پوری کر لے۔ اللہ تمہارے لیے آسانی چاہتا ہے، وہ تمہارے ساتھ سختی کرنا نہیں چاہتا۔ اور اس لیے کہ تم گنتی پوری کر لو، اور اللہ کی بڑائی کرو اس پر کہ اس نے تم کو راہ بتائی، اور تاکہ تم اس کے شکر گزار بنو۔ اور جب میرے بندے تم سے میری بابت پوچھیں تو میں نزدیک ہوں، پکارنے والے کی پکار کا جواب دیتا ہوں ۔ تو چاہیے کہ وہ میرا حکم مانیں۔ اور مجھ پر یقین رکھیں تاکہ وہ ہدایت پائیں۔ تمہارے لیے روزے کی رات میں اپنی بیویوں کے پاس جانا جائز کیا گیا۔ وہ تمہارے لیے لباس ہیں۔ اور تم ان کے لیے لباس ہو۔ اللہ نے جانا کہ تم اپنے آپ سے خیانت کر رہے تھے، تو اس نے تم پر عنایت کی اور تم کو معاف کر دیا۔ تو اب تم ان سے ملو اور چاہو جو اللہ نے تمہارے لیے لکھ دیا ہے۔ اور کھاؤ اور پیو یہاں تک کہ صبح کی سفید دھاری کالی دھاری سے الگ ظاہر ہو جائے۔ پھر پورا کرو روزہ رات تک۔ اور جب تم مسجد میں اعتکاف میں ہو تو بیویوں سے خلوت نہ کرو۔ یہ اللہ کی حدیں ہیں۔ تو ان کے نزدیک نہ جاؤ۔ اس طرح اللہ اپنی آیتیں لوگوں کے لیے بیان کرتا ہے تاکہ وہ بچیں (البقرہ ۱۸۷ - ۱۸۳)

یہ روزہ کا بنیادی حکم ہے۔ اس کی مزید تفصیل حدیث اور فقہ میں بتائی گئی ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 1992 All issues

Printed page