Al-Risala · March 1992 · page 9

روزہ کا حکم

الرسالہ، مارچ ۱۹۹۲، صفحہ ۹

حدیث کی کتابوں میں روزہ (صوم) کے ابواب کے تحت بہت سی حدیثیں جمع کی گئی ہیں۔ ان سے روزہ کی عبادت کے مختلف پہلو معلوم ہوتے ہیں۔

روایات میں آتا ہے کہ رمضان کا مہینہ آیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کے سامنے خطبہ دیا۔ اس خطبہ میں آپ نے رمضان کے مہینہ میں روزہ رکھنے کی فضیلت بتائی: قال علی رضی اللہ عنه فقمت فقلت یا علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اس کے بعد میں کھڑا رسول الله ، ما افضل الاعمال في هذا الشهر ہو اور میں نے کہا کہ اے خدا کے رسول ، اس فقال يا ابا الحسن، افضل الاعمال في مہینہ میں سب سے بہتر عمل کیا ہے۔ آپ نے فرمایا: هذا الشهر الورع من محارم الله اے ابوالحسن ، اس مہینہ میں سب سے بہتر عمل ہے اللہ کی حرام کی ہوئی چیزوں سے بچنا۔

اس روایت سے روزہ کی اصل روح معلوم ہوتی ہے۔ روزہ کی اصل روح ان چیزوں سے اپنے آپ کو روکنا ہے جن سے رکنے کا خدا نے حکم دیا ہے۔ رمضان کے دنوں میں کھانے پینے جیسی چیزوں سے روزہ رکھنے کا حکم در اصل اسی کا عملی سبق ہے۔ کھانا پینا وہ آخری چیز ہے جس سے کسی آدمی کو روکا جائے ۔ انسان کو آخری ضرورت سے روکنا اس کو شدید تر انداز میں یہ سبق دینا ہے کہ خدا نے جن چیزوں سے تمہیں روکا ہے ان سے لازماً تمہیں رکنا ہے ، خواہ یہ رکنا تمہارے ذوق اور عادت کے لیے کتنا ہی سخت کیوں نہ ہو، خواہ اس کی فہرست تمہاری زندگی کی لازمی ضرورتوں تک کیوں نہ پہنچ جائے ۔ ایک اور روایت کے الفاظ یہ ہیں :

قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : ما من رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب بھی کسی عبد صائم یشتم فيقول سلام عليكم روزہ دار کو گالی دی جائے اور وہ کہے کہ تم پر سلامتی لا اشتمك كما تشتمنی إلا قال الرب ہو، میں تم کو گالی نہیں دوں گا جیسے تم نے مجھ کو تبارك وتعالی: استجار عبدی بالصوم گالی دی تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ میرے بندے

‹ Previous page Next page › Contents of March 1992 All issues

Printed page