روزہ کا بیان
الرسالہ، مارچ ۱۹۹۲، صفحہ ۱۰
روزہ کا بیان
روزہ کی عبادت کا ایک پہلو مسائل سے تعلق رکھتا ہے۔ یہ مسائل عام طور پر لوگوں کو معلوم ہیں۔ ہر سال رمضان کے زمانہ میں تقریر و تحریر کے ذریعہ روزہ کے مسائل بتائے جاتے ہیں۔ اس لیے مسائل کا پہلو کافی تفصیل کے ساتھ لوگوں کے علم میں آتا رہتا ہے۔ اس وقت میں جو کچھ کہوں گا وہ زیادہ تر روزہ کی حقیقت کے بارہ میں ہوگا۔
قرآن میں روزہ کا باقاعدہ حکم سورہ البقرہ (رکوع ۲۲) میں دیا گیا ہے۔ اس حکم کا آغاز اس آیت سے ہوتا ہے کہ اے ایمان والو، تمہارے اوپر روزے لکھ دیے گئے جس طرح وہ پچھلی امتوں پر لکھے گئے تھے تاکہ تم میں تقویٰ پیدا ہو (يا ایھا الذين آمنوا كتب عليكم الصيام كما كتب على الذين من قبلكم لعلكم تتقون)
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ روزہ ہر دور میں شریعت خداوندی کا جزو رہا ہے۔ آج جب ایک شخص روزہ رکھتا ہے تو گویا کہ وہ ایک ایسے تاریخی تسلسل کا حصہ بن جاتا ہے جو ہر دور کے دین داروں میں جاری رہا ہے۔ اور آئندہ ہر دور میں جاری رہنے والا ہے۔ روزہ دار اپنے اندر یہ قلبی اطمینان محسوس کرتا ہے کہ میں وہ عمل کر رہا ہوں جو اللہ کے نیک اور مقبول بندوں نے ہر زمانہ میں کیا ہے۔ یہ احساس اس کو اس عالمی ربانی قافلہ میں شامل کر دیتا ہے جو نبیوں کی رہنمائی میں دنیا سے آخرت تک چلا جا رہا ہے۔ روزہ کا نظام قمری کیلنڈر کے اعتبار سے بنایا گیا ہے۔ شعبان کی آخری شام کو اگلے مہینہ کا چاند دیکھ کر روزہ رکھنے کا سلسلہ شروع ہوتا ہے۔ اس طرح روزہ کی سرگرمیاں شعبان کے مہینہ کے آخر سے ہی شروع ہو جاتی ہیں۔ لوگ شعبان کی آخری تاریخ کا شمار کرنے لگتے ہیں تاکہ اس روز چاند دیکھ کر رمضان کی آمد کا فیصلہ کریں۔ چاند دیکھ کر روزہ رکھنا گویا روزہ سے پہلے آدمی کے اندر روزہ کی نفسیات برپا کرنا ہے۔ روزہ کا زمانہ ایک مکمل عمل کا زمانہ ہے۔ یہ خصوصی دینی سرگرمیوں کا دور ہے۔ اس دور کا آغاز ۲۹ شعبان کی شام سے شروع ہو جاتا ہے۔ شعبان کے مہینہ کی ۲۹ تاریخ کی شام آتے ہی اہل ایمان کی نظریں چاند دیکھنے کے لیے آسمان میں گڑ جاتی ہیں۔ ان کا شعور یہ جاننے کے لیے جاگ پڑتا ہے کہ کیا وہ گردش زمین کے اس مرحلہ میں داخل ہو گئے ہیں جب کہ ان کو اپنی زندگی کا نقشہ بالکل بدل دینا چاہیے۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 1992 All issues