Al-Risala · March 1992 · page 15

روزہ کا بیان

الرسالہ، مارچ ۱۹۹۲، صفحہ ۱۵

روکا ہے ، ان سے ہر حال میں تمہیں رکنا ہے، خواہ یہ رکناتمہارے ذوق اور تمہاری عادت کے لیے کتنا ہی زیادہ سخت کیوں نہ ہو، خواہ ان ممنوعہ چیزوں کی فہرست تمہاری زندگی کی لازمی ضرورتوں تک کیوں نہ پہنچ جائے۔

اس طرح کی اور بہت سی حدیثیں ہیں جن سے روزہ کے بارے میں اس چیز کی اہمیت معلوم ہوتی ہے جس کو میں صوم اسپرٹ کہہ رہا ہوں۔ مثلاً صحیح بخاری کی ایک روایت ہے۔ اس کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس آدمی نے روزہ رکھا۔ مگر روزہ رکھ کر اس نے جھوٹ بولنا اور جھوٹ پر عمل کرنا نہ چھوڑا تو اللہ کو اس کی حاجت نہیں کہ وہ اپنا کھانا اور اپنا پانی چھوڑ دے۔ یہ حدیث واضح طور پر بتاتی ہے کہ وہی روزہ روزہ ہے جس کے اندر روزہ کی روح یا صوم اسپرٹ پائی جائے ۔ جس کے لیے کھانا اور پانی چھوڑنا تمام خدائی ممنوعات کو چھوڑنے کی علامت بن جائے۔ جس کا روزہ گویا اس بات کا اعلان ہو کہ میں اللہ کی خاطر ہر چیز چھوڑ دوں گا ، حتیٰ کہ ضرورت ہو تو کھانا ، اور پانی بھی۔ کیونکہ جب آخری چیز کی بابت بول دیا جائے تو بقیہ چیزیں اپنے آپ اس میں شامل ہو جاتی ہیں۔ جس حدیث کا ابھی میں نے ذکر کیا ، اس کے مطابق ، اُسی روزہ دار کے روزہ کی قیمت ہے جو جھوٹ اور دوسری باتوں کو خدا کے منع کرنے کی بنا پر چھوڑ دے جس طرح وہ خدا کے منع کرنے کی بنا پر رمضان میں کھانا اور پانی چھوڑتا ہے۔ جو شخص روزہ کی عبادت اس طرح کرے کہ وہ جھوٹ بولے ، وہ جھوٹی باتوں پر عمل کرتا ہو، تو اس کا روزہ صوم اسپرٹ سے خالی ہے، اور صوم اسپرٹ کے بغیر کسی کا روزہ اللہ کے یہاں قبول نہیں۔

جھوٹ کی ایک صورت یہ ہے کہ آدمی خود خلاف واقعہ بات کہے۔ وہ ایسی بات اپنے منہ سے نکالے جس کے متعلق اس کو معلوم ہو کہ وہ درست نہیں ہے۔ مگر حدیث میں جھوٹ کی اور بھی قسمیں بتائی گئی ہیں۔ مثلاً ایک حدیث کے مطابق ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آدمی کے جھوٹا ہونے کے لیے یہ کافی ہے کہ وہ جو کچھ سنے اس کو بیان کرنے لگے۔ گویا دوسروں سے کوئی بات سننا اور اس کو تحقیق کے بغیر دہرانے لگنا بھی جھوٹ میں شامل ہے۔ جو آدمی چاہتا ہو کہ وہ اللہ کے یہاں روزہ داری کے نمبر حاصل کرے ، اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ جھوٹ کی تمام قسموں سے اپنے آپ کو دور رکھے۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 1992 All issues

Printed page