روزہ کا بیان
الرسالہ، مارچ ۱۹۹۲، صفحہ ۱۶
طرح بتائی گئی ہے کہ جب بھی کسی روزہ رکھے ہوئے آدمی کو گالی دی جائے اور روزہ دار اس کے جواب میں غصہ ہونے کے بجائے یہ کہے کہ تم پر سلامتی ہو (سلام علیکم) وہ کہے کہ تم نے اگر مجھ کو گالی دی ہے تو میں ایسا نہیں کروں گا کہ میں بھی تم کو گالی دینے لگوں۔ جو آدمی ایسا کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میرے بندے نے ایک شخص کی برائی کے مقابلہ میں روزہ کی پناہ لی تو میں نے بھی اپنے اس بندے کو آگ سے پناہ دے دی۔ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ روزہ آدمی کو منفی نفسیات سے بچاتا ہے اور اس کے اندر مثبت نفسیات کی پرورش کرتا ہے۔ روزہ آدمی کے اندر یہ صلاحیت پیدا کرتا ہے کہ وہ اشتعال انگیزی پر مشتعل نہ ہو۔ دوسروں سے برائی کا تجربہ ہو تب بھی وہ ان کے ساتھ بھلائی کرے۔ کوئی شخص اسے گالی دے تب بھی وہ اس کے ساتھ شفقت کا سلوک کرے۔ روزہ آدمی کے اندر یہ جذبہ ابھارتا ہے کہ وہ اپنے دشمن کو دعائیں دے۔ جو لوگ اس کے ساتھ برائی کریں ان کے حق میں وہ اپنے رب سے بہتری کی درخواست کرے۔
روزہ دنیا میں برائیوں کے مقابلہ میں ڈھال ہے۔ اور آخرت میں وہ جہنم کے مقابلہ میں آدمی کی ڈھال بن جائے گا۔
ایک اور حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ روزہ صرف کھانا اور پینا چھوڑنے کا نام نہیں ہے۔ روزہ دراصل یہ ہے کہ آدمی لغو اور بے ہودہ بات کو چھوڑ دے (ليس الصيام من الأكل والشرب انما الصيام من اللغو والرفث)
ایک شخص اگر بظاہر روزہ رکھے اور اسی کے ساتھ وہ جھوٹ بولے، گالی دے، غیبت کرے۔ بدخواہی کرے کسی کو بے عزت کرنے والے کلمات بولے، تو اس قسم کے اعمال میں مبتلا شخص سچا روزہ دار نہیں ہے۔ اس قسم کا روزہ حدیث کے الفاظ میں، ایسا ہی ہے جیسے کسی آدمی نے خدا کی جائز کی ہوئی چیز سے روزہ رکھا اور پھر خدا کی حرام کی ہوئی چیز سے اس نے افطار کر لیا۔ اسی نوعیت کی ایک حدیث وہ ہے جس کو بخاری اور مسلم نے روایت کیا ہے۔ اس کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ روزہ ڈھال ہے۔ پس جب تم میں سے کسی شخص کے روزہ کا دن ہو تو وہ نہ فحش کلامی کرے اور نہ شور کھلے۔ اور اگر کوئی آدمی اس کو برا کہے یا اس سے لڑائی
‹ Previous page Next page › Contents of March 1992 All issues