روزہ اور کردار
الرسالہ، مارچ ۱۹۹۲، صفحہ ۳۰
روزہ اور کردار
مَنْ لَّمْ يَدَعْ قَوْلَ الزُّوْرِ وَالْعَمَلَ بِهِ فَلَيْسَ جس روزہ دار نے جھوٹ بولنا اور جھوٹ پر عمل کرنا لِلَّهِ حَاجَةً فِيْ أَنْ يَّدَعَ طَعَامَهُ وَشَرَابَهُ چھوڑا تو اللہ کو اس کی حاجت نہیں کہ وہ اپنا (رواه البخاري) کھانا اور اپنا پینا چھوڑ دے۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ آدمی کی عبادت کی قیمت اس وقت ہے جب کہ اسی کے ساتھ وہ جھوٹ بولنا اور جھوٹ پر عمل کرنا نہ چھوڑے ہوئے ہو۔ جو شخص اس طرح عبادت کرے کہ عبادت گزاری کے ساتھ وہ جھوٹ بولتا ہو اور جھوٹ پر عمل کرتا ہو تو اس کی عبادت گزاری اللہ کے یہاں قابل قبول نہیں ٹھہرے گی۔ اللہ کو بے جھوٹ کا عمل مطلوب ہے نہ کہ وہ عمل جس کے ساتھ جھوٹ شامل ہو۔ اس حدیث میں دو لفظ آئے ہیں۔ ایک ہے جھوٹ بولنا۔ دوسرے جھوٹ پر عمل کرنا۔ جھوٹ بولنے کا مطلب یہ ہے کہ آدمی اپنی گفتگو میں اس کی پابندی نہ کرتا ہو کہ وہ ہمیشہ مطابق واقعہ بات کہے۔ اور جو بات واقعہ کے مطابق نہ ہو اس کو اپنی زبان سے نہ نکالے۔ تاہم صرف وہی شخص جھوٹا نہیں ہے جو جان بوجھ کر جھوٹ بولتا ہو، جو پہلے سے طے کیے ہوئے ذہن کے مطابق جھوٹی بات کہے ۔ حدیث کے مطابق وہ شخص بھی جھوٹا ہے جو خود ارادہ کر کے جھوٹ نہ بولے، مگر وہ ایسی بات کہے جو عملاً ایک جھوٹی بات ہو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک ارشاد ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ سنی ہوئی بات کو بلا تحقیق دہرانا بھی جھوٹ ہے :
كفى بالمرء كذبا ان يحدث بكل آدمی کے جھوٹا ہونے کے لیے یہ بات کافی ہے کہ وہ جو کچھ سنے اس کو بیان کرنے لگے۔
جھوٹ پر عمل کرنا یہ ہے کہ آدمی جھوٹ کو اپنے عمل کی بنیاد بنائے۔ وہ جھوٹا نعرہ کھڑا کر کے قوم کے اوپر لیڈری حاصل کرے ۔ وہ ایک بے بنیاد قصہ گھڑ کر اس کے ذریعہ کسی بندہ خدا کو بدنام کرے ۔ وہ جھوٹی دستاویز تیار کر کے کسی کی جائداد کو اپنی جائداد بنائے ۔ وہ فرضی تقریریں کر کے عوام کے درمیان مقبولیت حاصل کرے ۔ وہ موجودہ دنیا میں جھوٹ کی بنیاد پر کھڑا ہونے کی کوشش کرے نہ کہ سچ کی بنیاد پر۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 1992 All issues