روزہ اور کردار
الرسالہ، مارچ ۱۹۹۲، صفحہ ۳۱
روزہ کے بارہ میں بتایا گیا ہے کہ اس کا ثواب عام اعمال سے زیادہ ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ روزہ میں قربانی کا پہلو شامل ہے ۔ روزہ مطلوب اعمال کو قربانی کی سطح پر انجام دینا ہے ۔ رمضان میں ایک مہینے کا روزہ رکھنا اسلام کی ایک خصوصی عبادت ہے اور حدیث میں مختلف طریقوں سے اس کے خصوصی ثواب کو بتایا گیا ہے۔ ایک حدیث کے الفاظ یہ ہیں :
عن أبى هريرة ، قال قال رسول الله صلى الله حضرت ابو ہریرہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عليه وسلم : كل عمل بن آدم یضاعف فرمایا۔ انسان کے ہر عمل کی نیکی دس گنا سے سات سو گنا تک الحسنة بعشر مثالها إلى سبعمائة ضعف، بڑھائی جاتی ہے۔ اللہ تعالی نے فرمایا کہ روزہ کا معاملہ قال الله تعالى الا الصوم فانه لي وانا جدا ہے۔ روزہ میرے لیے ہے، اور میں ہی اس کا بدلہ أجزي به ۔ يدعُ شهوته و طعامه دوں گا۔ بندہ اپنی خواہش کو اور اپنے کھانے کو میرے من اجلی - للصائم فرحتان - فرحة لیے چھوڑتا ہے۔ روزہ دار کے لیے دو خوشیاں ہیں، ایک عند فطره وفرحة عند لقاء ربہ خوشی روزہ افطار کے وقت، اور دوسری خوشی اپنے رب سے ملنے کے وقت۔
روزہ کا یہ غیر معمولی فائدہ اس لیے ہے کہ روزہ کی مشقت آدمی کی نفسیات کے اندر غیر معمولی کیفیت پیدا کرتی ہے۔ اس کی زبان سے غیر معمولی انداز کی دعائیں نکلنے لگتی ہیں۔
روزہ میں جب بھوک پیاس تڑپاتی ہے تو آدمی کو اپنی بے چارگی یاد آتی ہے۔ وہ مزید اضافہ کے ساتھ اللہ کی طرف رجوع کرنے لگتا ہے ۔ وہ کہہ اٹھتا ہے کہ خدایا، میں نے تیرے ایک حکم کی تعمیل کی، مگر میں تیرے بہت سے حکموں کی تعمیل نہ کر سکا۔ میں نے ایک دن کا روزہ رکھا مگر میں دوسرے بہت سے مواقع پر " روزہ " نہ رکھ سکا۔ تو اپنی رحمت خاص سے مجھے بخش دے۔
جب بندہ کی زبان سے اس قسم کی دعائیں نکلتی ہیں تو خدا کی رحمت اس کی طرف متوجہ ہوتی ہے۔ اس کے بعد " دس گنا " اور " سات سو گنا" " کی حد کو توڑ کر اس کے ثواب کو بے حساب گنا تک بڑھا دیا جاتا ہے۔ عبادت کا عمل دنیا میں کیا جاتا ہے اور اس کا اجر آخرت میں ملتا ہے، مگر روزہ استثنائی طور پر ایک ایسی عبادت ہے جس کے اجر کا تبصرہ ہی دنیا میں کر دیا جاتا ہے۔ افطار کو بار روزہ کے اجر کا ابتدائی تبصرہ ہے اور آخرت
‹ Previous page Next page › Contents of March 1992 All issues