احتسابِ خویش
الرسالہ، مارچ ۱۹۹۲، صفحہ ۳۲
احتسابِ خویش
انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا (۱۹۸۴) میں روزہ (فاسٹنگ) کے باب کے تحت مختلف مذہبوں میں روزہ کا تصور بتایا گیا ہے اور ان کا باہمی تقابل کیا گیا ہے۔ اس سلسلہ میں اسلامی روزہ کا تذکرہ بھی ہے۔ میں اسلامی روزہ کے بارہ میں یہ الفاظ درج ہیں ۔ ________ رمضان کا مہینہ اسلام میں توبہ کے زمانہ کے طور پر منایا جاتا ہے اور اس میں صبح سے شام تک کھانے پینے سے مکمل پر ہیز کیا جاتا ہے : The month of Ramadan in Islam is observed as a period of penitence and total fasting from dawn to dusk. (vol. IV, p.62). توبہ کی حقیقت احتساب ہے۔ مومن کے لیے اس کی بے حد اہمیت ہے۔ تاہم توبہ یا احتساب اسلام میں کوئی زمانی یا دوری چیز نہیں۔ توبہ کا تعلق کسی خاص دن یا کسی خاص مہینے سے نہیں ہے بلکہ اس کا تعلق مومن کی پوری زندگی سے ہے۔ البتہ یہ کہنا درست ہوگا کہ رمضان کے مہینہ میں آدمی کے اندر توبہ و استغفار کا احساس عام دنوں کے مقابلہ میں زیادہ شدید ہو جاتا ہے۔
توبہ کے لفظی معنی پلٹنے کے ہیں۔ شرعی اصطلاح کے مطابق ، توبہ کا مطلب یہ ہے کہ بندہ اپنے رب سے منحرف ہونے کے بعد دوبارہ اس کی طرف پلٹ آئے۔
یہ توبہ مومن کی ایک عمومی صفت ہے۔ اس کا تعلق صرف بڑے گناہوں سے نہیں ہے بلکہ چھوٹی چھوٹی کوتاہیوں سے بھی ہے۔ آدمی کی حساسیت جتنی زیادہ بڑھتی ہوئی ہوگی ، اتنا ہی زیادہ اس کے اندر توبہ کا جذبہ ابھرے گا۔ حتیٰ کہ اگر اس کی زبان سے کسی کے بارہ میں نامناسب کلمہ نکل جائے تو اس پر بھی وہ تڑپ اٹھے گا اور اس کے فوراً بعد اپنی کوتاہی کی تلافی کی طرف دوڑ پڑے گا۔ روزہ کا زمانہ چونکہ مومن کی حساسیت میں اضافہ کر دیتا ہے ، اس لیے روزہ میں توبہ کا احساس بھی عام دنوں کے مقابلہ میں زیادہ جاگ اٹھتا ہے۔ بھوک اور پیاس سے آدمی کے اندر عجز کی کیفیت بڑھتی ہے۔ اور جب آدمی کے اندر عجز کی کیفیت بڑھتی ہے تو اسی نسبت سے توبہ کی کیفیت بھی اس کے اندر پہلے سے زیادہ پیدا ہو جاتی ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 1992 All issues