احتسابِ خویش
الرسالہ، مارچ ۱۹۹۲، صفحہ ۳۳
روزہ کا مقصد یہ ہے کہ آدمی کے عمل میں کیفی (qualitative) اضافہ کیا جائے یہ خارجی تدبیر کے ذریعہ اندرونی احساسات کو بیدار کرنا ہے ۔
رمضان کے مہینہ کو حدیث میں صبر کا مہینہ (شہر الصبر) کہا گیا ہے۔ قرآن کے مطابق رمضان کا مہینہ تقویٰ کے لیے مقرر کیا گیا ہے (البقرہ ۱۸۳) ۔ اس کا مطلب کیا ہے۔ صبر اور تقویٰ دین کے وہ تقاضے ہیں جو ہر روز اور سارے سال مطلوب ہیں۔ پھر ان کو رمضان کے مہینہ کے ساتھ کیوں خاص کیا گیا۔
اس کی وجہ رمضان کے مہینہ کی تربیتی اہمیت ہے۔ تقویٰ اور صبر دین کا عمومی حکم ہے۔ وہ ہر مسلمان سے پورے سال اور پوری زندگی کے لیے مطلوب ہے۔ اسی عمومی مطلوب کو ایک مہینہ میں خصوصی شدت اور اہتمام کے ساتھ ادا کرایا جاتا ہے تاکہ وہ لوگوں کے مزاج میں داخل ہو جائے ۔ لوگ نفسیاتی طور پر اس قابل ہو جائیں کہ وہ سال کے بقیہ مہینوں میں اس کو اپنی زندگی کے معاملات میں برتتے رہیں ۔ رمضان کے مہینہ میں ایک مقرر نظام کے تحت یہ کوشش کی جاتی ہے کہ لوگوں کے دلوں میں اللہ کا خوف ابھرے ۔ ان کے اندر یہ مزاج پیدا ہو کہ وہ اس دنیا میں صبر اور تقویٰ کے ساتھ رہنا سیکھیں۔ یعنی خواہش کے باوجود ایک چیز کو نہ کھائیں ۔ نفس کے تقاضے کے باوجود ایک کام کو نہ کریں۔ وہ ہر حال میں دین کے تقاضوں پر قائم رہیں، خواہ اس کی خاطر انھیں ناموافق باتوں کو برداشت کرناپڑے۔ خواہ اس کی خاطر انھیں وہ چیز چھوڑنا ہو جس کو چھوڑنا انھیں کسی حال میں پسند نہیں ۔ رمضان کا مہینہ اسی شعور اور اسی احساس کو جگانے کے لیے ایک قسم کا ہنگامی کورس ہے ۔ سال کے ایک مہینہ میں صبح سے شام تک اور شام سے صبح تک ایک مقرر نظام کے تحت لوگوں کو عبادت اور اطاعت کے کاموں میں مشغول رکھا جاتا ہے۔ اس طرح آدمی کے اندر یہ احساس زندہ کیا جاتا ہے کہ وہ خدا کے بتائے ہوئے وقت پر سوئے اور خدا کے بتائے ہوئے وقت پر جاگے ۔ وہ خدا کے حکم سے کھائے اور خدا کے حکم سے نہ کھائے ۔ وہ خدا کے کہنے سے کرے اور خدا کے روکنے سے رک جائے ۔ یہ چیزیں ایک بندہ سے ہر روز مطلوب ہیں۔ مگر چند خاص دنوں میں ان کو نظام کے زور پر کرایا جاتا ہے تاکہ اس کے ذریعہ سے وہ اس قابل ہو جائے کہ بعد کے دنوں میں وہ ان کو اپنی طبیعت کے زور پر کر سکے ۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 1992 All issues