Al-Risala · March 1992 · page 46

آغاز حیات کا دن

الرسالہ، مارچ ۱۹۹۲، صفحہ ۴۶

روزہ وقتی طور پر عالم مادی سے کٹنا اور عید دوبارہ عالم مادی میں لوٹ آنا ہے۔ روزہ جس طرح محض بھوک پیاس نہیں ہے۔ اسی طرح عید محض کھیل تماشے کا نام نہیں ہے۔ روزہ اللہ سے قربت حاصل کرنے کی کوشش ہے اور عید اس نئے بہتر سال کا آغاز ہے جو روزہ کے بعد روزہ داروں کے لیے مقرر کیا گیا ہے۔

آئیے ہم عید سے اپنی نئی زندگی شروع کریں۔ عید کے دن کو اپنی دینی و ملی تعمیر کے آغاز کا دن بنائیں۔ آج ہم نئی ایمانی قوت اور نئے عملی حوصلہ کے ساتھ زندگی کی جدوجہد میں داخل ہوں۔ ہمارا سینہ خدا کے نور سے روشن ہو۔ ہماری مسجدیں خدا کے ذکر سے آباد ہوں۔ ہمارے گھر تقویٰ اور تواضع کے گھر بن جائیں۔ اللہ کے لیے ہم سب ایک ہو کر وہ جدوجہد شروع کریں جس کے نتیجہ میں ہم کو دنیا میں اللہ کی نصرت ملتی ہے اور آخرت میں اللہ کی جنت۔

روزہ کے بعد عید کا آنا روزہ داروں کے لیے خوش خبری ہے۔ یہ اللہ کی طرف سے اعلان ہے کہ اگر ہم نے روزہ کی اسپرٹ کو زندگی میں استعمال کیا تو ہم دونوں جہان کی خوشیوں سے ہم کنار ہوں گے۔

عید ایک خوش خبری ہے۔ اس بات کی خوش خبری کہ ہم خوشی کو پا سکتے ہیں۔ ہم خوشی کی طرف بڑھ رہے ہیں، ہم خوشی کے کنارے پہنچ گئے ہیں۔ مگر منزل تک پہنچنے کے لیے ابھی ہم کو ایک جست لگانا ہے۔ روزہ نے صبر اور تعلق باللہ کی جو طاقت دی ہے اس کو بھرپور استعمال کیجئے، اور اس کے بعد آپ کامیابی کی آخری منزل پر ہوں گے۔

عید کا دن مسلمانوں کی خوشی کا دن ہے۔ مگر جب خوشی کے حالات نہ ہوں تو عید کا دن عہد کا دن ہوتا ہے۔

آئیے ہم سب مل کر عہد کریں کہ ہم سچے مسلمان بنیں گے۔ ہم مستقبل کی تعمیر کے لیے جدوجہد کریں گے۔ یہاں تک کہ ہم اپنے عید کے دن کو خوشی کا دن بنا سکیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 1992 All issues

Printed page