رویت ہلال
الرسالہ، مارچ ۱۹۹۲، صفحہ ۴۷
رویت ہلال
سورج کے گرد زمین کی ایک گردش کی مدت کا نام سال ہے اور زمین کے گرد چاند کی ایک گردش کی مدت کا نام مہینہ۔ کسی مہینہ کا آغاز اور اس کا خاتمہ کیلنڈر کے ذریعہ متعین کیا جاتا ہے۔ تمام کیلنڈر سسٹم سورج یا چاند کی حرکت پر مبنی ہوتے ہیں۔ یہ دونوں آسمانی اجسام گویا وقت گزرنے کے قدرتی نشانات (natural markers) ہیں۔ سورج کے گرد زمین کی حرکت کو بنیاد بنا کر تیار کیے جانے والے کیلنڈر کو شمسی کیلنڈر (solar calendar) کہا جاتا ہے۔ اور زمین کے گرد چاند کی گردش کو بنیاد بنا کر تیار کیے جانے والے کیلنڈر کو قمری کیلنڈر (lunar calendar)
گردش کے مقررہ نظام کے مطابق شمسی سال اور قمری سال دونوں برابر نہیں ہیں۔ شمسی سال تقریباً ۳۶۵ دن کا ہوتا ہے۔ اور قمری سال (چاند کے بارہ مہینے) تقریباً ۳۵۴ دن کا۔ اس طرح شمسی سال کے مقابلہ میں قمری سال تقریباً گیارہ دن کم ہوتا ہے۔ اس کی وجہ سے دونوں کے کیلنڈر میں تقابلی مسائل پیدا ہوتے ہیں۔
اسلام کے سوا دوسرے تمام مذہبی یا تہذیبی نظاموں میں اس فرق کو اضافہ (intercalation) کے ذریعہ پورا کیا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر، یہودی مذہب کی تاریخیں بھی قمری مہینوں پر مبنی ہیں۔ مگر وہ لوگ اپنے کیلنڈر میں ہر ۱۹ سال میں ایک تیرھویں مہینہ کا اضافہ کر لیتے ہیں۔ اس طرح وہ اپنے قمری کیلنڈر کو شمسی کیلنڈر کے برابر کرتے رہتے ہیں۔ مگر اسلام کی دینی تاریخوں میں یہ طریقہ اختیار نہیں کیا گیا ہے۔
چاند دیکھنے کی اہمیت
اسلامی شریعت میں یہ حکم دیا گیا ہے کہ رمضان کے مہینہ کا پہلا چاند (new moon) دیکھ کر روزہ رکھو، اور شوال کے مہینہ کا پہلا چاند دیکھ کر روزہ ختم کردو اور عید کا دن مناؤ۔ حدیث کی تمام کتابوں میں اس کے بارہ میں روایات آئی ہیں اور ان سب میں "رویت" کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ فرمايا گیا ہے کہ چاند دیکھ کر روزہ رکھو اور چاند دیکھ کر افطار کرو (صوموا لرؤيتہ وافطر والرؤيته)
‹ Previous page Next page › Contents of March 1992 All issues