چاند دیکھنے کی اہمیت
الرسالہ، مارچ ۱۹۹۲، صفحہ ۴۸
صحیح مسلم (کتاب الصوم) کا ایک باب ان الفاظ میں ہے : باب وجوب صوم رمضان لرؤیۃ الھلال والفطر لرؤیۃ الھلال۔ اس باب کے تحت ایک روایت یہ ہے :
عن ابن عمر عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عبداللہ بن عمر کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ انہ ذکر رمضان وقال لا تصوموا علیہ وسلم نے رمضان کا ذکر کیا۔ پھر آپ نے فرمایا کہ حتی تروا الھلال ولا تفطروا حتی تم روزہ نہ رکھو جب تک تم چاند نہ دیکھ لو اور تم ترون فان اغمٰی علیکم فاقدروا افطار نہ کرو جب تک چاند نہ دیکھ لو۔ پھر اگر بادل لہ۔ آجائے تو تم تیس دن پورا کر لو۔
ان حدیثوں کے الفاظ بتاتے ہیں کہ آغاز رمضان اور عید دونوں کا انحصار رویت ہلال پر ہے۔ جس چیز کو رویت (چاند دیکھنا) کہا جاتا ہے وہ فلکیاتی اعتبار سے اس کا نام ہے کہ چاند کا ایک حصہ زمین کے مغربی افق کے اوپر آجائے۔ ہر مہینہ کی ۸۹ تاریخ کو لازماً ایسا ہوتا ہے۔ چاند اگر افق سے ۲ ڈگری اوپر ہو تو وہ بہ شکل ہلال دکھائی دے گا۔ اگر اس سے نیچے ہو تو وہ دکھائی نہیں دے گا۔ جب چاند اس طرح دکھائی دے جائے تو مہینہ ۲۹ دن کا ہوتا ہے اور جب دکھائی نہ دے تو مہینہ ۳۰ دن کا شمار کیا جاتا ہے۔
تاہم یہ عدم یقینیت آنکھ سے دیکھنے کی صورت میں ہے، وہ رصد گاہی مطالعہ کے لیے نہیں ہے۔ آنکھ سے دیکھنے والے شخص کو پیشگی طور پر یہ معلوم نہیں ہوتا کہ آج چاند نظر آئے گا یا نظر نہیں آئے گا لیکن جدید فلکیاتی مشاہدہ اور جدید فلکیاتی حساب کی رو سے پیشگی طور پر یہ معلوم ہو جاتا ہے کہ آج چاند کی پوزیشن کیا ہے۔ اس کے نظر آنے کا امکان بھی حساب (CALCULATIONS) کے ذریعہ معلوم ہو جاتا ہے اور نظر نہ آنے کے امکان کا بھی پتہ چل جاتا ہے۔
موجودہ زمانہ مشینی زمانہ ہے۔ موجودہ زمانہ میں ہر معاملہ میں تعینات کو پسند کیا جاتا ہے۔ اس لیے کچھ لوگ یہ کہتے ہیں کہ جب جدید علم الافلاک کے ذریعہ یہ ممکن ہو گیا ہے کہ پورے سال کے لیے چاند کی پوزیشن پیشگی طور پر معلوم کر لی جائے تو کیوں نہ ایسا کیا جائے کہ شمسی کیلنڈر کی طرح قمری کیلنڈر بنا کر اس کے مطابق روزہ اور عید کے دنوں کا تعین کیا جائے۔ ان کے خیال کے مطابق، ہم کو چاہیے کہ ہم ہلال کے مسئلہ کا فیصلہ انسانی رویت پر منحصر نہ کریں بلکہ اس کو رصد گاہی رویت پر مبنی قرار
‹ Previous page Next page › Contents of March 1992 All issues