Al-Risala · April 1992 · page 40

My goal for 1990 is $25 million.

الرسالہ، اپریل ۱۹۹۲، صفحہ ۴۰

وہ اتنے زیادہ صفحات پر مشتمل ہوتے ہیں۔

جاپان ایئرلائنز کی فلائٹ میگزین (Winds) کے شمارہ دسمبر ۱۹۹۰ کو دیکھ رہا تھا۔ نیم میگزین کا بیشتر حصہ اشتہارات سے بھرا ہوا تھا۔ ایک صفحہ پر یہ الفاظ درج تھے: If you've got a minute, Minolta's got a copier یہ کاپی کرنے والی مشین کا اشتہار تھا۔ اس میں چھوٹی بڑی مشینوں کی تصویریں تھیں ۔ ۱۵ کاپی فی منٹ، ۳۰ کاپی فی منٹ ، ۴۰ کاپی فی منٹ، ۶۰ کاپی فی منٹ۔ اس کو دیکھ جناب صفی قریشی صاحب کی بات یاد آئی کہ موجودہ سوسائٹی انسٹینٹ فکس سوسائٹی ہے۔

انسٹینٹ کافی کی طرح ہر کام فوری طور پر ہوتا ہے۔ اس سے جدید انسان فوری حل کا عادی ہو گیا ہے۔ یہ آخرت کا پیغام دینے والی تحریک کے لئے ایک نفسیاتی رکاوٹ ہے۔ انسان اپنے مسئلہ کو " آج " حل کرنا چاہتا ہے ، اور آخرت کا نظریہ اس کو " کل " تک موخر کر رہا ہے۔ یہ بڑا جہاز (۷۴۷) تھا۔ مگر چند کو چھوڑ کر اس کے تمام مسافر جاپانی تھے۔ جہاز کے اندر بالکل سکون نظر آیا۔ ہندوستانی مسافر جس جہاز میں ہوں ، اس کے اندر شور لازمی ہے۔ ٹائیلٹ میں جائیے تو ھندا کیا ہوا ملے گا۔ بچے جہاز کے اندر دوڑتے ہوئے نظر آئیں گے۔ مگر موجودہ جہاز میں اس قسم کی کوئی چیز نہ تھی۔ اکثر مسافر پڑھتے یا لکھتے ہوئے دکھائی دئے۔ جاپانیوں کا یہی مزاج جاپانیوں کا اصل سرایہ ہے۔ ان کی ترقی کا اصل راز ان کا یہی تعمیری مزاج ہے۔

لاس اینجلسز سے ٹوکیو تک تقریبا دس گھنٹہ کی مسلسل پرواز ہے۔ یہ پورا سفر بحر الکاہل کے اوپر طے ہوتا ہے۔ بحر الکاہل کی گہرائی اتنی زیادہ ہے کہ اگر اس کے اندر ہمالیہ پہاڑ ڈال دیا جائے تو وہ اس طرح ڈوب جائے کہ اس کا کوئی حصہ دکھائی نہیں دے گا۔ اتنے گہرے اور اتنے بڑے سمندر کے اوپر انسان تیز رفتاری کے ساتھ اڑتا ہوا ایک ساحل سے دوسرے ساحل پر پہنچ جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت کا یہ کیسا عجیب کرشمہ ہے۔ " اس وقت ہم ۳۳ ہزار فٹ کی بلندی پر اڑ رہے ہیں "۔ جہاز کے پائلٹ نے اعلان کیا ۔ میں نے جہاز کے ایک جاپانی افسر سے پوچھا کہ اتنی زیادہ بلندی پر اڑنے کا سبب کیا ہوتا ہے۔ کیوں کہ اس وقت آپ سمندر کے اوپر ہیں ، آپ دو ہزار فٹ کی بلندی پر بھی اڑ

‹ Previous page Next page › Contents of April 1992 All issues

Printed page