Al-Risala · April 1992 · page 42

My goal for 1990 is $25 million.

الرسالہ، اپریل ۱۹۹۲، صفحہ ۴۲

میں نے اب تک کسی اور ائیر پورٹ پر نہیں دیکھی۔

ائیر پورٹ سے ہر آدھ گھنٹہ پر بسیں ہوٹل اور شہر جاتی ہیں۔ میں میجر امولک سنگھ کے ساتھ باہر نکلا تو ایک بس کھڑی ہوئی تھی۔ اس پر لکھا ہوا تھا ہوٹل نریتہ ٹوکیو (Narita Tokyo) ہم اس پر بیٹھ گئے۔ بس چلتی ہوئی ایک ہوٹل پر رکی۔ اندر داخل ہو کر اپنا کارڈ دکھایا تو ہمیں بتایا گیا کہ آپ کا رجسٹریشن ہوٹل نکونریتیا (Nikko Narita) میں ہے۔ اب دوسری بس سے دوبارہ ائیر پورٹ واپس آنا پڑا۔ ائیر پورٹ سے ایک اور بس ملی۔ اس نے ہمیں ہمارے ہوٹل میں پہنچایا۔

یہ غلطی ہوٹل کے نام میں مشابہت کی وجہ سے پیش آئی۔ اسی طرح زندگی میں ایسا ہوتا ہے کہ آدمی محض لفظی مشابہت کی وجہ سے ایک بے حقیقت چیز کو حقیقت سمجھ لیتا ہے۔ آدمی کو چاہئے کہ وہ پوری تحقیق کر کے چیزوں کو اختیار کرے۔ یا کم از کم اس کے اندر یہ حوصلہ ہو کہ جب اس کی غلطی اس پر واضح ہو جائے تو وہ فوراً صحیح چیز کی طرف پلٹ آئے۔

نکو ہوٹل میں میرا قیام کمرہ نمبر ۲۴۵ میں تھا۔ ٹوکیو ایک بے حد مشینی شہر ہے۔ یہاں کی پوری زندگی ایک بہت بڑی مشین نظر آتی ہے۔ میرے پاس ایک مہینہ کا ویزا تھا۔ یہاں کا اسلامک سنٹر مجھے مزید ٹھہرانا چاہتا تھا اور ٹوکیو میں میرا پروگرام رکھنا چاہتا تھا۔ مگر ٹوکیو کی مشینی زندگی سے مجھے بہت جلد وحشت ہوگئی۔ میں یہاں زیادہ ٹھہرنے کے لئے اپنے آپ کو آمادہ نہ کر سکا۔ " اسلامک سنٹر جاپان " ٹوکیو میں واقع ہے (6169-460-03 .Tel) وہ ۱۹۶۵ میں قائم ہوا ۔ اس کی باقاعدہ عمارت ۱۹۸۲ میں تعمیر ہوئی۔ اس نے جاپانی زبان میں ۲۵ کتا بیں چھاپی ہیں۔ اس کا ایک سه ماهی جرنل بھی جاپانی زبان میں نکلتا ہے جس کا نام السلام ہے۔ اس کا سرکولیشن تین ہزار ہے۔ اس کے تحت بچوں کا اسکول قائم ہے۔ سمینار وغیرہ منعقد کئے جاتے ہیں۔ وہ نکاح اور دوسری دینی ضرورتیں پورا کرنے کا مرکز بھی ہے۔ وغیرہ جاپان میں کسی بھی قسم کا مذہبی امتیاز نہیں ہے ۔ چنانچہ برابر کچھ نہ کچھ افراد اسلام قبول کرنے رہتے ہیں۔ مگر دوسرے ملکوں کی طرح ، یہ سب اس نے آب ہوتے ہیں۔ سنٹر کے تعارف نامہ میں اس کا ذکر کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اس میں ہم ارادہ کا رنگ نہیں دینے۔ اسلام میں خود کشش ہے اور وہ

‹ Previous page Next page › Contents of April 1992 All issues

Printed page