اسلام کی اثر انگیزی
الرسالہ، مئی ۱۹۹۲، صفحہ ۱۷
خود بخود اسلام کی حقانیت ان پر روشن ہو گئی۔ اور بغیر کسی خارجی تحریک کے مشرف بہ اسلام ہو گیا۔ انھوں نے کہا کہ اسلام کی بے شمار خوبیاں ہیں۔ مگر دو خوبیوں نے خصوصاً ان پر بڑا اثر کیا۔ اول توحید اور ثانیاً مذہبی رواداری۔ مسٹرسبورو ٹوکیو میں تنہا جاپانی مسلمان ہیں۔ ان کے علاوہ تمام جاپان میں معدودے چند جاپانی مسلمان ہیں - سیاحت جاپان، صفحہ ۱۶ - ۱۱۱ ماضی اور حال کی تاریخ میں اس طرح کے واقعات کثرت سے پائے جاتے ہیں جب کہ کسی آدمی نے اتفاقاً کسی اور مقصد کے تحت اسلام کی کتابوں کو پڑھا۔ پڑھنے سے پہلے وہ سمجھتا تھا کہ وہ صرف معلومات کے لیے اسلام کو پڑھ رہا ہے۔ مگر جب اس نے اسلام کو پڑھا تو وہ اس سے اتنا زیادہ متاثر ہوا کہ اس نے باقاعدہ اسلام قبول کر لیا۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ اسلام کامل معنوں میں ایک فطری مذہب ہے۔ انسان کی فطرت میں جو احساسات غیر ملفوظ حالت میں چھپے ہوئے ہیں، اسلام انھیں احساسات کو ملفوظ حالت میں بیان کرتا ہے۔ اسلام ہر آدمی کے اپنے دل کی آواز ہے ۔
چنانچہ جب کوئی شخص اسلام کا مطالعہ کرتا ہے تو وہ حیرت انگیز طور پر محسوس کرتا ہے کہ وہ خود اپنے دل کی کتاب کو پڑھ رہا ہے۔ یہ احساس اس کو مجبور کرتا ہے کہ جس اسلام کو اس نے صرف پڑھا تھا، اس کو وہ عملاً بھی اختیار کرلے۔ اسلام کو جان لینے کے بعد اس کو نہ ماننا خود اپنا انکار بن جاتا ہے، اور کون ہے جو خود اپنا انکار کرنے کا تحمل کر سکے۔
اسلام کی عمومی اشاعت کے لیے جو واحد شرط مطلوب ہے وہ صرف یہ کہ داعی اور مدعو کے درمیان نفرت کی فضا کو ختم کر دیا جائے۔ نفرت کی فضا ختم ہوتے ہی اسلام اپنے آپ اپنا کام کرتا ہے۔ وہ خود ہی لوگوں کے دلوں میں پہنچنے کے لیے اپنا راستہ بنا لیتا ہے۔
نفرت کی فضا دو طرفہ طور پر ختم نہیں ہو سکتی۔ یہ فضا جب بھی ختم ہو گی یک طرفہ طور پر ختم ہو گی یہ یک طرفہ ذمہ داری داعی کو قبول کرنا ہے۔ یہ کام داعی کو کرنا ہے کہ وہ مدعو کی زیادتیوں پر یک طرفہ طور پر صبر کرے تاکہ نفرت کا ماحول ختم ہو اور داعی اور مدعو کے درمیان وہ معتدل فضا قائم ہو جس میں دین حق کی آواز بلا روک ٹوک لوگوں تک پہنچنے لگے ۔ جب اسلام کوشش کے بغیر لوگوں کو متاثر کر رہا ہو تو کوشش کے بعد وہ کتنا زیادہ لوگوں کو متاثر کرے گا اس کا اندازہ کرنا مشکل نہیں۔