Al-Risala · May 1992 · page 36

تاریخی تائید

الرسالہ، مئی ۱۹۹۲، صفحہ ۳۶

تاریخی تائید

چھٹی صدی عیسوی کے آخر میں جب اسلام کا ظہور ہوا، اس وقت دنیا کی سب سے بڑی سلطنت عیسائیوں کی سلطنت تھی۔ اس سلطنت کے دو بڑے حصے تھے۔ ایک مغربی حصہ اور دوسرا مشرقی حصہ۔ مغربی حصہ (یورپ) کورومن ایمپائر کہا جاتا تھا اور اس کا پایہ تخت روم (اٹلی) تھا۔ مشرقی حصہ (ایشیا اور افریقہ) کو بازنطینی ایمپائر کہا جاتا تھا اور اس کا پایہ تخت قسطنطنیہ (ترکی) تھا۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے آخری زمانہ میں شام کی سرحد پر رومیوں سے مسلمانوں کا فوجی ٹکراؤ شروع ہوا۔ اس ٹکراؤ میں مسلمان کامیاب رہے۔ ایک صدی کے اندر اندر انہوں نے مسیحی سلطنت کے مشرقی حصہ کو تقریبا پورا کا پورا فتح کر لیا جس میں ان کے مقدس مذہبی مقامات (شام فلسطین) بھی شامل تھے۔

اس کے بعد مسلمانوں نے ایک طرف سسلی اور اسپین کی جانب سے پیش قدمی شروع کی اور بڑھتے بڑھتے فرانس کے اندر داخل ہو گئے۔ دوسری طرف وہ ترکی کی جانب سے مشرقی یورپ میں داخل ہوئے اور آگے بڑھتے ہوئے ویانا (آسٹریا) تک جا پہنچے۔ اس طرح انہوں نے مسیحی (رومی) سلطنت کے مشرقی بازو پر تقریبا پورا کا پورا قبضہ کر لیا۔ اور اسی کے ساتھ اس کے مغربی بازو کے بھی ایک حصہ کو کاٹ لیا۔

مشہور صلیبی لڑائیاں مغربی عیسائیوں کی طرف سے ان کی اسی شکست کا رد عمل تھیں۔ عیسائی دنیا ایک غیر قوم کے ہاتھ سے اپنی اس ذلت اور شکست کو برداشت نہیں کر سکتی تھی۔ چنانچہ یورپ کی مسیحی سلطنتوں نے متحد ہو کر مسلم دنیا پر حملہ کر دیا۔

یہ صلیبی لڑائیاں (crusades) وقفہ وقفہ سے تقریبا دو سو سال - ۱۰۹۵ء) تک جاری رہیں۔ اس درمیان میں عیسائیوں کو وقتی اور جزئی کامیابی بھی حاصل ہوئی مگر سلطان صلاح الدین ایوبی کی قیادت میں بالآخر مسلمانوں نے فتح پائی۔ اور مسیحیوں کو ان کی سابقہ دنیا سے باہر نکال دیا گیا۔ پیرس سائیکلوپیڈیا (Pears Cyclopaedia) نے اس سلسلے میں بہت با معنی تبصرہ کیا ہے۔ اس کے الفاظ یہ ہیں :

‹ Previous page Next page › Contents of May 1992 All issues

Printed page