مذہب کی طرف
الرسالہ، جون ۱۹۹۲، صفحہ ۱۹
خطرہ ہے۔ اگر یہ جنگ چھڑی تو وہ ایک انتہائی خوفناک جوہری جنگ (nuclear war) ہوگی جو اکثر بڑے شہروں کو چند گھنٹوں کے اندر کھنڈر بنا دے گی۔ مزید یہ کہ اس جنگ کے بعد فضا میں نہایت گہرا دھواں چھا جائے گا جو سورج کی روشنی کو زمین تک پہنچنے نہ دے گا۔ اس طرح ایک ہولناک قسم کا جوہری جاڑا (nuclear winter) شروع ہو گا جو زمین پر نباتات، حیوانات اور انسان کو بد ترین موت کے کنارے پہنچا دے گا۔ وغیرہ وغیرہ۔ سائنس کے پیدا کردہ مسائل میں سے ایک سنگین مسئلہ وہ ہے جس کو فضائی کثافت (Air Pollution) کہا جاتا ہے۔ سائنس نے ٹکنالوجی پیدا کی۔ ٹکنالوجی نے مشینیں ایجاد کیں۔ ابتداءً جب لوگوں نے سڑکوں پر کاروں کو دوڑتے ہوئے دیکھا اور یہ دیکھا کہ کار خانے ان کے لئے ہر قسم کا سامان تیار کر رہے ہیں تو وہ بہت خوش ہو گئے۔ مگر جلد ہی انہیں معلوم ہوا کہ یہ ترقی انہیں اس قیمت پر ملی ہے کہ اس نے مضر گیسیں بکھیر کر ہوا کو اس قابل نہیں رکھا کہ انسان اس میں مفید طور پر سانس لے سکے۔ چنانچہ ایک مغربی مفکر نے لکھا ہے کہ موجودہ انسان کو جو سب سے بڑا خطرہ درپیش ہے وہ ہوائی کثافت ہے۔ اس کے الفاظ میں انسانی نسل جس مستقبل کی طرف بڑھ رہی ہے وہ یہ ہے کہ تمام انسان صنعتی تہذیب کے پیدا کردہ کثیف پنجرہ (Polluted cage) میں بند ہو کر رہ جائیں۔
ٹائمس آف انڈیا (۲۲ جون ۱۹۸۹) میں امریکی حکومت کے شائع کردہ اعداد و شمار کی بنیاد پر بتایا گیا تھا کہ امریکہ کے صنعتی کارخانے ہر سال ۱۶۳ ملین کلوگرام کے بقدر ایسا دھواں فضا میں انڈیل رہے ہیں جو کینسر پیدا کرنے والا ہے۔ صرف ۳۰ بڑے امریکی کارخانے جو ہوائی کثافت پیدا کر رہے ہیں وہ فی کارخانہ ساڑھے چار لاکھ کلوگرام سے زیادہ ہے: US industrial plants are spouting 163 million Kg of suspected cancer- causing chemicals into the air annually, with releases from each of the 30 biggest polluters exceeding 450,000 kilograms, reports AP, quoting government statistics. امریکہ میں ۱۹۷۰ میں ہوا کی صفائی کا قانون (Clean Air Act) پاس کیا گیا تھا۔ مگر فضائی کثافت میں پچھلے ۲۰ سال میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔ امریکہ کے فضائی حفاظت کے ادارہ
‹ Previous page Next page › Contents of June 1992 All issues