Al-Risala · June 1992 · page 20

مذہب کی طرف

الرسالہ، جون ۱۹۹۲، صفحہ ۲۰

(U.S. Environmental Protection Agency) کے مطابق، امریکہ اس وقت ۳۰ ہزار ملین ڈالر سالانہ صرف فضائی کثافت کو کنٹرول کرنے پر خرچ کر رہا ہے۔ مگر موجودہ کوششیں ناکام ثابت ہو رہی ہیں، اس لئے اب تجویز کیا گیا ہے کہ زیادہ مؤثر ذرائع اختیار کرنے کے لئے اس رقم کو دگنا کر دیا جائے (اسپان، اگست ۱۹۸۹)

سائنس کی ترقی نے صرف مادی مسائل ہی پیدا نہیں کئے بلکہ اسی کے ساتھ نہایت سنگین قسم کے ذہنی اور روحانی مسائل بھی پیدا کر دئے ۔

۱۔ سائنس اور سائنسی ذرائع نے انسانی علم کو بے حد وسیع کر دیا تھا۔ اس نے انسان کو نہ صرف خورد بین اور دور بین دی جس سے وہ ان چیزوں کو دیکھ لے جواب تک دیکھی نہیں جاسکی تھیں ۔ بلکہ بے شمار نئے ذرائع انسان پر کھول دئے جس سے ہر میدان میں معلومات کا بے پناہ اضافہ ممکن ہو گیا ۔

اس کی وجہ سے انسان کے اندر یہ خود اعتمادی پیدا ہو گئی کہ وہ کسی اور سہارے کے بغیر صرف اپنی سائنس کے ذریعہ آخری حقیقت تک پہنچ سکتا ہے، مگر علم کے اضافے نے انسان کو صرف یہ بتایا کہ وہ لا علمی کے ایک نئے دور میں داخل ہو گیا ہے۔ ایک سائنس داں کے الفاظ میں، ہم صرف یہ کر رہے ہیں کہ ہم کم سے کم کے بارے میں زیادہ سے زیادہ جان رہے ہیں: We are knowing more and more about less and less. ۱۹ ویں صدی کے آخر تک سائنس داں یہ سوچتے تھے کہ وہ علم کے اضافے کے ساتھ آخری حقیقت کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ مگر بیسویں صدی کے نصف اول میں جو تحقیقات ہوئی ہیں انھوں نے یہ ثابت کیا ہے کہ انسان آخری حقیقت تک نہیں پہنچ سکتا۔ انسان کی محدودیتیں (LIMITATIONS) فیصلہ کن طور پر آخری حقیقت تک پہنچنے میں حائل ہیں۔ اہل سائنس کے درمیان اب مسلمہ طور پر یہ بات مان لی گئی ہے کہ سائنس ہم کو حقیقت کا صرف جزئی علم دیتی ہے:

Science gives us but a partial knowledge of reality. ۲۔ جدید سائنس کے ظہور کے بعد اہل علم کے درمیان یہ ایک فیشن بن گیا تھا کہ کائنات

‹ Previous page Next page › Contents of June 1992 All issues

Printed page