Al-Risala · June 1992 · page 21

مذہب کی طرف

الرسالہ، جون ۱۹۹۲، صفحہ ۲۱

کی تعبیر خدا کے بغیر کی جاسکتی ہے۔ چنانچہ ہر معاملہ میں ایسی تشریح کرنے کی کوشش کی گئی جس سے یہ ثابت ہو کہ کائنات کے پیچھے کوئی ذہن یا شعور نہیں۔ مگر کائنات کی غیر خدائی تشریح کی ہر کوشش ناکام ہو گئی۔ ہندوستان کے مشہور سائنس داں ڈاکٹر سبرامنیم چندر شیکھر جن کو ۱۹۸۳ میں فزکس کا مشترکہ نوبیل پرائز ملا تھا۔ وہ اپنے آپ کو ملحد (atheist) کہتے ہیں۔ انھوں نے اس معاملہ میں سائنس کی موجودہ پوزیشن کا خلاصہ چند لفظوں میں اس طرح بتایا ہے:

کائنات میں ایسے پہلو ہیں جن کا سمجھنا انتہائی حد تک مشکل ہے۔ آئن سٹائن اور دوسرے سائنس دانوں نے بھی ایسا ہی کہا ہے۔ شرو ڈنگر کے الفاظ میں فطرت کے متعلق سب سے زیادہ ناقابل فہم بات یہ ہے کہ وہ قابل فہم ہے۔ ایسا کیوں کر ہے کہ انسانی دماغ جو کائنات کے مقابلہ میں بہت ہی چھوٹا ہے اور فلکیاتی وقت کے مقابلہ میں جس کی مدت بہت ہی کم ہے، وہ حقیقت کو ایسے خیالات کے ذریعہ سمجھتا ہے جو انسانی دماغ کی پیداوار ہیں۔ اس سوال نے کیپلر سے لے کر اب تک بہت سے لوگوں کو سراسیمہ کر رکھا ہے۔ کیوں یہ ضروری ہے کہ ریاضیاتی تشریحات بالکل درست ہوں۔ ریاضیاتی تشریح ایک ایسی چیز ہے جس کو انسانی دماغ نے ایجاد کیا ہے۔ پھر کیوں وہ خارجی فطرت کے مطابق ہو جاتی ہے۔ ہم ان سوالات کا جواب نہیں جانتے۔ اس کہنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ دنیا میں نظم ہے اس لئے اس کا کوئی ناظم ہونا چاہئے ۔ مگر کیوں ایسا ہے کہ ہم کائنات کو ان اصطلاحوں میں سمجھتے ہیں جن کو ہم نے خود وضع کیا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 1992 All issues

Printed page