Al-Risala · June 1992 · page 22

A Return to Religion

الرسالہ، جون ۱۹۹۲، صفحہ ۲۲

ٹی ایس ایلیٹ (T.S. Eliot) نے کہا تھا کہ وہ حکمت کہاں ہے جو ہم نے علم میں کھودی ۔ وہ علم کہاں ہے جس کو ہم نے معلومات میں کھو دیا :

Where is the wisdom that we have lost in knowledge? Where is the knowledge that we have lost in information? ۱۹۸۹ میں خاص اسی موضوع پ ایک خاتون مصنف کی کتاب چھپی ہے۔ اس کا نام یہ ہے: Wisdom, Information and Wonder, by Dr Mary Midgley ان چیزوں نے ۲۰ ویں صدی کے نصف آخر میں انسان کے اندر نیاز ہن پیدا کیا ہے۔ نہ صرف "آزاد دنیا" میں بلکہ کمیونسٹ ملکوں میں بھی اس کے اثرات نمایاں ہیں۔ اس تبدیلی کی خبریں اخبارات میں اور رسائل میں مسلسل دیکھی جاسکتی ہیں۔

امریکہ میں پروفیسر کاکس (Harvey R. Cox) کی ایک کتاب ۱۹۶۵ میں چھپی تھی ۔ اس کا نام تھا سیکولر شہر (The Secular City) اس میں مصنف نے دکھایا تھا کہ اب لوگوں نے مذہب میں اپنی دل چسپی کھودی ہے۔ مگر اسی مصنف کی دوسری کتاب ۱۹۸۴ میں چھپی ہے جس کا نام ہے سیکولر شہر میں مذہب (Religion in the Secular City) یہ دوسری کتاب بتاتی ہے کہ امریکہ ر اور اسی طرح دوسرے مغربی ممالک میں مذہب از سر نو زندہ ہورہا ہے۔ حال میں اس موضوع پر کثرت سے کتابیں شائع ہوئی ہیں ، ان کتابوں کا ایک خلاصہ امریکی میگزین اسپان (Span) کے شمارہ دسمبر ۱۹۸۴ میں شائع ہوا ہے۔ اس مضمون کے مصنف فران شو مر (Fran Schumer) ہیں اور اس کا عنوان ہے :

A Return to Religion

اس مضمون کی تفصیل " عقلیات اسلام" میں دیکھی جاسکتی ہے۔ خلاصہ یہ کہ امریکہ کی نئی نسل محسوس کر رہی ہے کہ مذہب کو چھوڑ کر وہ بے جڑ (Rootless) ہوگئے ہیں۔ چنانچہ وہ از سر نو مذہب کی طرف مائل ہورہے ہیں۔ ایک پروفیسر کے الفاظ میں ، مذہب دوبارہ ایجنڈ اپر ایک مثبت طاقت کے ساتھ واپس آگیا ہے: Tradition is back on the agenda with a positive force (p. 29).

‹ Previous page Next page › Contents of June 1992 All issues

Printed page