He is our super-guru.
الرسالہ، جون ۱۹۹۲، صفحہ ۳۷
میں جو چیز معاون ہوئی وہ یہ کہ جاپانی ایسے لوگ ہیں جن کے اندر فطری طور پر یہ استعداد ہے کہ وہ ہر اس چیز کو قبول کر لیں جو عقل کے موافق ہو، لا انہم قوم عندهم استعداد طبیعی لقبول كل ما يوافق العقل) صفحہ ۵۳ مسلم رہنما ہر جگہ صلیبیت اور صہیونیت اور عرب قومیت کو عالم اسلام کا سب سے بڑا خطرہ بتا رہے ہیں۔ مگر وہ تبلیغی اسلام کی تیزی طاقت سے بالکل بے خبر ہیں۔ " سب سے بڑا خطرہ" کا انکشاف کرنے والے بہت ہیں مگر " سب سے بڑا امکان" کا اعلان کرنے والا کوئی نہیں۔ سوویت روس کی مشرقی سرحد پر جزیروں کا ایک سلسلہ ہے۔ ان جزیروں کو کور یل جزیرے (Kuril Island) کہا جاتا ہے۔ یہ جزیرے پہلے جاپان کا حصہ تھے۔ یہ جزیرے ایک ہزار کیلو میٹر سے زیادہ رقبہ میں پھیلے ہوئے ہیں۔ وہ زیادہ تر غیر آباد ہیں۔ دوسری عالمی جنگ کے آخر میں یالٹا کانفرنس کے فیصلے کے مطابق ، سوویت روس نے کچھ جزیروں پر قبضہ کر لیا۔ یہ واقعہ ۱۹۴۵ کا ہے۔
روس اور جاپان کے درمیان یہ ایک مستقل نزاع کا باعث تھا۔ جاپان کی بار بار کوشش کے باوجود روس ان جزیروں کو چھوڑنے پر راضی نہیں ہوتا تھا۔ مگر جاپان کی غیر معمولی ٹیکنکل ترقی کے بعد یہ خود روس کی ایک ضرورت بن گئی۔ کیوں کہ سوویت روس جاپان کی ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھانا چاہتا تھا۔ مگر جاپان کا کہنا تھا کہ پہلے ہمارے جزیروں کو ہمارے حوالے کرو، اس کے بعد ہمارے اور تمہارے درمیان ٹیکنکل تعاون کا آغاز ہو سکتا ہے۔
موجودہ نزاع عملاً چار جزیروں پر ہے۔ تازہ خبر یہ ہے کہ سوویت یونین اس پر راضی ہو گیا ہے کہ وہ اس میں سے دو خاص جزیروں کو جاپان کے حوالے کر دے۔ جاپان کی حکمراں پارٹی کے لیڈر شنٹار و آبے (Shintaro Abe) نے سوویت یونین کے پروپوزل کو بہت اہم (very important) قرار دیا۔ میں نے اس خبر کو پڑھا تو میری زبان سے نکلا۔ جاپان نے جنگ کے ذریعہ کھویا تھا، اور امن کے ذریعہ دوبارہ حاصل کر لیا۔ جزائر کور یل کی واپسی کا مسئلہ جب تک صرف جاپان کا مسئلہ تھا، روس اس کی واپسی سے انکار کرتا رہا۔ مگر جب ان جزائر کی واپسی سے خود روس کا انٹرسٹ وابستہ ہو گیا تو اس نے اپنی سابقہ پالیسی بدل دی۔ اگر آپ حریف کی ضرورت بن جائیں تو آپ کسی لڑائی
‹ Previous page Next page › Contents of June 1992 All issues