He is our super-guru.
الرسالہ، جون ۱۹۹۲، صفحہ ۳۸
کے بغیر اپنے حریف کو جھکانے میں کامیاب ہو جائیں گے۔
۲۲ جون ۱۹۹۰ کو سان فرانسسکو میں جاپان کے وزیر خارجہ اور امریکہ کے وزیر خارجہ کے درمیان ملاقات ہوئی۔ اس ملاقات میں جاپانی وزیر نے امریکہ کے ایک مطالبہ کو ماننے سے انکار کر دیا جس کو اخبارات نے ایک بہت بڑا نہیں (very big no) سے تعبیر کیا ہے۔ وہ مطالبہ یہ تھا کہ جاپان اگلے دس برسوں (۲۰۰۰ - ۱۹۹۱) کے درمیان اپنی آمدنی کا دسواں حصہ (چار ٹریلین ڈالر) عوامی سہولت (public amenities) اور سماجی کاموں (social infrastructure) پر خرچ کرے۔ یعنی پارک ، سڑکوں اور سیور لائن وغیرہ کا نظام بہتر بنانے پر۔
جاپان کے لوگ دنیا کے بہترین لوگ ہیں۔ نیز جاپان ایک انتہائی دولت مند ملک ہے۔ مگر جاپان کا سیاح حیرت انگیز طور پر دیکھتا ہے کہ جاپان میں تمدنی سہولتیں اس اعلیٰ درجہ کی نہیں ہیں جو امریکہ یا مغربی جرمنی جیسے ملک میں نظر آتی ہیں۔ امریکہ چاہتا ہے کہ جاپان ان مدوں میں اپنی جمع شدہ دولت کا ایک معقول حصہ خرچ کرے۔ مگر جاپان ابھی تک اس کے لئے تیار نہیں۔ بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس معاملہ میں جاپان اس قدیم تجارتی اصول پر قائم ہے ـــــ گھوڑا پکڑا ، کاروبار کرو پلکا۔
اس سلسلہ میں ایک لطیفہ قابل ذکر ہے ، لندن کے ایک اخبار دی انڈپینڈنٹ (The Independent) میں حال میں ایک خط چھپا ہے۔ مکتوب نگار لکھتے ہیں کہ جنت وہ ہے جہاں آدمی کو انگلش مکان ، چینی باورچی ، امریکی تنخواہ اور جاپانی بیوی حاصل ہو۔ اس کے برعکس جہنم وہ ہے جہاں کسی کو جاپانی مکان ، انگلش باورچی ، چینی تنخواہ اور امریکی بیوی دے دی جائے :
Heaven consists of an English house, a Chinese cook, an American salary and a Japanese wife. On the other hand, a Chinese salary and an American wife. جاپان کے ایک ممتاز لیڈر شنتارو اشی ہارا (Shintaro Ashiharo) کا ایک آرٹیکل 38 الهلال، جون ۱۹۹۲
‹ Previous page Next page › Contents of June 1992 All issues