Al-Risala · June 1992 · page 39

He is our super-guru.

الرسالہ، جون ۱۹۹۲، صفحہ ۳۹

لاس اینجلس ٹائمز (Los Angeles Times Syndicate) میں چھپا تھا۔ وہ لکھتے ہیں کہ امریکہ اور جاپان کے درمیان ۱۹۶۰ میں جس سیکورٹی ٹریٹی معاہدہ پر دستخط ہوئے تھے، وہ اب مکمل طور پر فرسودہ (obsolete) ہو چکا ہے۔ اس معاہدہ کے تحت جاپان نے یہ ذمہ داری لی تھی کہ وہ جاپان میں مقیم امریکی فوجوں کا ۴۰ فیصد خرچ ادا کرے گا۔ مگر اب بدلے ہوئے حالات میں ہم کو نہ اپنے دفاع کے لئے امریکی فوجوں کی ضرورت ہے اور نہ اس کا خرچ ادا کرنے کی۔ انھوں نے لکھا ہے کہ وقت آگیا ہے کہ جاپان اپنے مائیکرو چپ کارڈ کو استعمال کرنے پر غور کرے تاکہ امریکہ کو ہوش میں لایا جا سکے :

It is time for Japan to consider the possibility of playing our microchip card in order to bring the US to its senses. اس کو پڑھتے ہوئے خیال آیا کہ ہندوستان میں اور جاپان میں کتنا زیادہ فرق ہے۔ ہندوستان میں ہمارے لیڈروں کا حال یہ ہے کہ وہ کمیونل کارڈ، ہندو کارڈ، مسلم کارڈ کھیلتے ہیں۔ مگر جاپان کا لیڈر اپنے سیاسی مقصد کے لئے بھی یہ سوچ رہا ہے کہ اس کو مائیکرو چپ کارڈ کھیلنا چاہئے۔ اپنے مقصد کو حاصل کرنے کے لئے ہندوستان میں تخریبی سیاست چلائی جاتی ہے اور جاپان میں تعمیری سیاست۔

جدید صنعتی انقلاب نے تمام پرانے معانی کو بالکل بدل دیا ہے۔ اس کی ایک دلچسپ مثال یہ ہے کہ اکقوبر ۱۹۹۰ میں شری لال کرشن ایڈوانی نے سومناتھ سے ایودھیا تک ۱۰ ہزار میل کی جو رتھ یا ترا کی، اس رتھ کا نام " رام رتھ " رکھا گیا تھا۔ مگر حقیقتاً وہ " جاپان رتھ " تھا، کیوں کہ وہ رام کی قدیم بیل گاڑی کی نقل نہ تھا۔ یہ دراصل ایک ایئر کنڈیشنڈ جاپانی وین تھی جس کو اوپر سے رتھ کی صورت دیدی گئی تھی۔

عباسی خلیفہ ہارون رشید نے فضا میں بادل کے ٹکڑے کو چلتے ہوئے دیکھ کر کہا تھا کہ جہاں چاہے جا کر برس، تیرا خراج میرے ہی پاس آئے گا (أمطري حيث شئت فسيأتيني خراجك) آج کی ترقی یافتہ تو میں اگر دنیا والوں سے کہیں کہ تم خواہ جو بھی سرگرمی دکھاؤ، اس کا مالی فائدہ ہم کو ہی ملے گا تو غلط نہ ہوگا۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 1992 All issues

Printed page