Al-Risala · June 1992 · page 40

He is our super-guru.

الرسالہ، جون ۱۹۹۲، صفحہ ۴۰

پرانا لطیفہ ہے "عقل بڑی کہ بھینس" مگر موجودہ زمانہ میں جاپان نے اس میں ایک اور اضافہ کیا ہے۔ اس نے عملی طور پر ثابت کیا ہے علم بڑا نہ کہ ہتھیار۔ اس نے اس کو ایک ٹھوس حقیقت بنا کر دکھا دیا ہے۔ ایک امریکی مبصر کے الفاظ میں جاپان نے ثابت کیا ہے کہ آتشیں طاقت (firepower) کے مقابلہ میں دماغی طاقت (brainpower) زیادہ بڑی اور زیادہ مؤثر ہے۔

جاپان نے یہ برتر طاقت علم کے ذریعہ حاصل کی ہے۔ جاپان نے اپنی علمی ترقی کے ذریعہ ٹکنالوجی میں نئی بلندیاں حاصل کیں۔ مثال کے طور پر سب سے اعلیٰ سیمی کنڈکٹر جاپان میں تیار ہوتا ہے جو کہ کمپیوٹر کی صحت کارکردگی کی ضمانت ہے۔ جاپان کی دو اعلیٰ شخصیتوں کی تیار کی ہوئی ایک کتاب چھپی ہے۔ اس کا نام معنی خیز طور پر یہ ہے جاپان جو کہہ سکتا ہے کہ نہیں (The Japan that Can Say No) اس کے مصنفین نے جاپان کو مشورہ دیا ہے کہ امریکہ اگر جاپان سے اپنے مطالبات بند نہیں کرتا تو جاپان کو یہ کہہ دینا چاہئے کہ وہ اپنے سیمی کنڈکٹر کی جانکاری (expertise) سوویت روس کو دیدے گا۔ اس پر کچھ امریکی مبصرین نے لکھا ہے کہ اس کتاب کی اشاعت امریکہ کے لئے "پرل ہاربر" کے برابر ہے۔ جاپان نے اپنی موجودہ صنعتی اور اقتصادی ترقی علم کے ذریعہ حاصل کی ہے۔ ایک امریکی کتاب میں بتایا گیا ہے کہ بین اقوامی سطح پر امریکی طلبہ میں صنعتی قوموں میں دسویں نمبر ہیں۔ جاپانیوں کی اسی بڑھی ہوئی معیار پسندی کا یہ نتیجہ تھا کہ انھوں نے اپنی مصنوعات کو بے نقص (zero defect) کے معیار تک پہنچا دیا۔ جاپانیوں کے اس مزاج کے متعلق میں نے ایک آرٹیکل پڑھا اس میں لکھا تھا کہ زیر و ڈیفیکٹ کے معاملہ میں ان کا شوق اتنا بڑھا ہوا ہے کہ معمولی جاپانی کارکن بھی اپنی کارکردگی کا تقابل جرمنوں اور امریکیوں سے کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر، اگر دوسرے لوگ پرزوں کوفی بلین کی سطح سے جانتے ہیں تو جاپانی یہ چاہتا ہے کہ اس کو فی ملین کی سطح سے جانچے :

So relentless are they in their zeal for 'zero defect', that even the ordinary Japanese workers are said to compare their performance with that of the Germans and Americans: If, for instance, others control parts at the per-million level, the Japanese want to do it at the per- billion level.

‹ Previous page Next page › Contents of June 1992 All issues

Printed page