Al-Risala · June 1992 · page 41

He is our super-guru.

الرسالہ، جون ۱۹۹۲، صفحہ ۴۱

جاپانی رہنماؤں نے اپنے افراد کے اندر معیاری پسندی کا ذہن پیدا کیا۔ اس کے برعکس موجودہ مسلم رہنما اپنی قوم کے افراد میں شکایت پسندی کا ذہن پیدا کر رہے ہیں۔ جاپانیوں کی سوچ یہ ہے کہ دوسرے لوگ اگر اچھا کام کر کے آگے بڑھے ہیں تو ہم اور زیادہ اچھا کام کر کے ان سے آگے نکل جائیں۔ جب کہ نام نہاد رہنماؤں نے موجودہ مسلمانوں کے اندر جو ذہن پیدا کیا ہے وہ یہ کہ دوسرے لوگ جس چیز کو لیاقت کی بنیاد پر حاصل کر رہے ہیں۔ اس کو تم مطالبہ کی بنیاد پر حاصل کرنے کی کوشش کرو، اور جب مطالبہ اور ڈیمانڈ کی بنیاد پر وہ چیز تم کو نہ ملے تو اس کو تعصب کا نتیجہ بتا کر شکایت اور احتجاج کا لفظی طوفان جاری کر دو۔ ٹوکیو میں ۱۹۰۸ء میں اسکول آف فارن لینگویجز قائم ہوا۔ اس میں اردو زبان کا بھی ایک شعبہ تھا۔ اس کے تحت غالباً پہلی بار پانچ جاپانی طالب علموں نے اردو پڑھنا شروع کیا۔ ۱۹۱۱ میں اس شعبہ کو ترقی دی گئی تو طلبہ کی تعداد بھی بڑھنے لگی۔ ۱۹۰۹ میں مولا نا برکت اللہ صاحب بھوپالی اس شعبہ کے استاد مقرر ہوئے۔ وہ مولانا محمود حسن صاحب کی تحریک آزادی کے پروگرام کے تحت انگلینڈ اور امریکہ ہوتے ہوئے جاپان پہنچے تھے۔ اور یہاں ٹوکیو کے مذکورہ اسکول میں اردو کے استاد مقرر ہو گئے ۔

مولانا برکت اللہ بھوپالی کئی زبانیں جانتے تھے۔ وہ نہایت متحرک آدمی تھے۔ انہوں نے اپنے زمانہ قیام میں ٹوکیو میں اسلامک فریٹرنٹی (Islamic Fraternity) کے نام سے ایک انجمن قائم کی اور اسی نام سے ایک انگریزی اخبار بھی جاری کیا۔ یہ اخبار جلد ہی بند ہو گیا۔ اس کے بعد انھوں نے دوسرا پرچہ الاسلام (Al-Islam) کے نام سے نکالا۔ ان پرچوں کا نام اگر چہ اسلامی تھامگر عملاً یہ دونوں پرچے سیاسی پرچے تھے۔ حکومت جاپان کو مولا نا برکت اللہ بھوپالی کی سیاسی سرگر میاں پسند نہیں آئیں۔ ۱۹۱۴ میں ان کو اسکول کی ملازمت سے الگ کر دیا گیا۔ اس کے بعد وہ جاپان سے واپس چلے گئے۔

۸۰ سال پہلے مولانا برکت اللہ بھوپالی کو جاپان میں کام کے جو مواقع ملے تھے اس کو اگر وہ اشاعت اسلام کے لئے استعمال کرتے تو آج شاید جاپان کی تاریخ دوسری تاریخ ہوتی۔ موجودہ زمانہ میں زبان ، جغرافیہ، تاریخ ، کلچر وغیرہ موضوعات کے تحت ساری دنیا میں

‹ Previous page Next page › Contents of June 1992 All issues

Printed page