He is our super-guru.
الرسالہ، جون ۱۹۹۲، صفحہ ۴۲
مختلف ادارے قائم کئے گئے ہیں۔ ان اداروں کے تحت مسلمانوں کو یہ موقع مل رہا ہے کہ وہ اس سے وابستہ ہوکر دنیا کے ہر ملک میں قیام کر سکیں۔ اس جدید امکان کے تحت بیسویں صدی میں لاکھوں مسلمانوں کو ساری دنیا میں رہنے اور کام کرنے کے مواقع حاصل ہوئے۔ اگر مسلمانوں میں دعوتی ذہن ہوتا تو یہ مواقع موجودہ زمانہ میں اسلام کی عالمی اشاعت کا ذریعہ بن جاتے۔ مگر دعوتی ذہن نہ ہونے کی بنا پر یہ مواقع اشاعتِ اسلام کے حق میں استعمال نہ ہوسکے۔ یہ بلاشبہ سب سے بڑا اسلامی نقصان ہے جو موجودہ زمانہ میں ہمیں پیش آیا ہے۔
ٹوکیو کے مذکورہ لسانی اسکول کے ایک اردو ٹیچر مسٹر بدر الاسلام ففضلی تھے، وہ دسمبر ۱۹۳۳ میں جاپان پہنچے اور ڈیڑھ سال تک وہاں رہے۔ ہندوستان واپس آکر انھوں نے "حقیقت جاپان" کے نام سے اپنا مفصل سفر نامہ لکھا تھا جو انجمن ترقی اردو دہلی سے ۱۹۳۴ میں شائع ہوا۔ اس جاپانی سفر نامہ کا ایک جُز، الرسالہ دسمبر ۱۹۷۶ میں شائع کیا جا چکا ہے۔ آج جاپان کی کئی یونیورسٹیوں میں اردو کے شعبے قائم ہیں۔ اردو۔ جاپانی لغت بھی شائع کیا جا چکا ہے۔ اردو سے متعلق اور بہت سے کام ہو رہے ہیں۔ اسکی تفصیل ہفت روزہ ہماری زبان (نئی دہلی) کے شمارہ ۸ جنوری ۱۹۹۱ میں دیکھی جاسکتی ہے۔
شومی اوکاوا (Shumi Okawa) غالباً پہلے جاپانی عالم ہیں جنھوں نے براہِ راست عربی سے قرآن کا ترجمہ جاپانی زبان میں کیا۔ جاپان کی کئی یونیورسٹیوں میں اردو، عربی اور اسلامیات کی تعلیم کے شعبے ہیں۔ ان کی وجہ سے اسلام کی اشاعت میں مدد ملتی ہے۔ تبلیغی جماعت کے لوگوں نے بھی جاپان میں اسلام کی اشاعت کا کام کیا ہے۔
۱۹۷۳ میں جب شاہ فیصل نے تیل کی سپلائی جزئی طور پر بند کی تو اچانک دنیا کو معلوم ہوا کہ جدید صنعتی دور میں تیل کو انتہائی اہم حیثیت حاصل ہے۔ اس کے نتیجہ میں عرب دنیا نے نئی اہمیت حاصل کرلی اور نتیجہ مسلم کلچر اور اسلامی علوم کا مطالعہ شروع ہوگیا۔ اس سے پہلے جاپان کے اہلِ علم اسلام کے معاملہ میں یورپ اور امریکہ کی کتابوں پر انحصار کرتے تھے، اب ان کے اندر یہ ذہن پیدا ہوا کہ وہ براہِ راست طور پر اسلام کا مطالعہ کرکے مسلم دنیا سے واقفیت حاصل کریں۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 1992 All issues