Al-Risala · June 1992 · page 43

He is our super-guru.

الرسالہ، جون ۱۹۹۲، صفحہ ۴۳

۱۹۷۵ میں باقاعدہ طور پر جاپان کی یونیورسٹیوں میں اسلامک اسٹڈیز کے شعبے قائم کرنے کا کام شروع ہوا۔ ۱۹۸۵ میں ایک بہت بڑا شعبہ قائم ہوا جس کا انگریزی نام (The Institute of Middle Eastern Studies) ہے ۔ اسی طرح ٹوکیو یونیورسٹی میں (Institute of Oriental Culture) قائم ہے۔ پچھلے برسوں میں جاپان میں اسلام کے موضوع پر کئی سیمینار ہو چکے ہیں۔ مذکورہ انسٹیٹیوٹ ایک سہ ماہی مجلہ چھاپتا ہے جس کا نام میدان (Maydan) ہے ۔ اس میں جاپانی اور انگریزی زبان میں مضامین ہوتے ہیں ۔ ایک اخبار میں جاپان میں آنے والے روبوٹ انقلاب (robot revolution) کا ذکر تھا ۔ اس کا پہلا جملہ یہ تھا آجکل جو لوگ جاپان آتے ہیں وہ اس کو دیکھ کر حیران رہ جاتے ہیں کہ کس طرح جاپان میں ہر صنعتی شعبہ میں روبوٹ مشینیں کام کر رہی ہیں : Recent visitors to Japan are awe-struck at the proliferation of robots in every field of industrial activity. مضمون میں بتایا گیا تھا کہ دنیا بھر میں جتنے روبوٹ استعمال ہوتے ہیں ، اتنے جاپان میں تنہا استعمال ہو رہے ہیں ۔ آگ بجھانا ، گھر کی صفائی کرنا، سمندر کی تہوں میں سامان لے جانا، کارخانوں میں سخت محنت والے کام کرنا ، سرنگوں میں داخل ہونا وغیرہ ، وغیرہ روبوٹ کی سائنس کو روبوٹکس (Robotics) کہا جاتا ہے ۔ اب روبوٹکس کی تحقیق خلائی روبوٹ بنانے کی طرف متوجہ ہے ۔ ایسے روبوٹ بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے جو خلائی کارخانوں میں کام کر سکیں ۔ مضمون میں مستقبل کے روبوٹ کے بارہ میں بہت سی انوکھی باتیں درج تھیں ۔ میں نے ایک ہم سفر سے اس کا ذکر کیا ۔ وہ انجینئر تھا۔ اس نے کہا کہ آج جب یہ باتیں کی جاتی ہیں تو وہ لوگوں کو سائنسی افسانہ معلوم ہوتی ہیں مگر اس صدی کے خاتمہ تک یہ سب عام بات ہو چکی ہوگی :

We seem to be talking the stuff of science fiction but by the turn of the century all this may sound commonplace. میں نے سوچا کہ عین یہی بات آخرت کے معاملہ میں بھی ہے ۔ آج جب لوگوں سے جنت اور

‹ Previous page Next page › Contents of June 1992 All issues

Printed page