He is our super-guru.
الرسالہ، جون ۱۹۹۲، صفحہ ۴۴
دوزخ کی بات کی جائے تو لوگوں کو اس کی صحت پر یقین نہیں آتا۔ حتیٰ کہ آخرت کا اقرار کرنے والے بھی اس کو شعور کی سطح پر سمجھ نہیں پاتے۔ مگر موجودہ زندگی کے ختم ہوتے ہی جنت اور دوزخ ایسے واقعہ کی صورت میں سامنے آجائے گی کہ لوگ محسوس کریں گے کہ یہ تو اتنی بڑی حقیقت تھی کہ اس سے بڑی حقیقت اور کوئی نہیں۔
۹ دسمبر کو ظہر کی نماز کے بعد ہوٹل سے ائیر پورٹ کے لئے روانہ ہوا۔ یہاں کے قاعدہ کے مطابق درمیان میں بس روکی گئی ۔ جاپانی پولیس نے تمام مسافروں کو مع سامان اتار کر ان کے پاسپورٹ اور ان کے سامان کی جانچ کی۔ میری باری آئی تو مجھ کو دیکھتے ہی میز کی دوسری طرف کھڑے ہوئے آدمی نے کہا ” آپ مسلمان ہیں" میں نے کہا ، ہاں۔ اس کے بعد ابتدائی انگریزی اور اس کے بعد عربی میں گفتگو ہوئی۔ اس نے بتایا کہ میں تین سال تک خرطوم میں رہا ہوں اور " شو یا " عربی جانتا ہوں ۔ اس قافلہ میں میں اکیلا مسلمان تھا۔ اس نے سب کی باقاعدہ چیکنگ کی۔ مجھ کو صرف ایک مسکرا ہٹ کے ساتھ چھوڑ دیا۔ قیامت کے دن جو لوگ ایمان و اسلام کے ساتھ پہنچیں گے ، وہ اسی طرح سرسری طور پر دیکھ کر آگے بڑھا دئے جائیں گے۔ مگر جن لوگوں کے پاس ایمان و اسلام کا سرمایہ نہ ہوگا ، ان کا سخت حساب ہوگا اور حدیث میں آیا ہے کہ من نوفش فقد هلك ۔ اللہ اس دن کی ہولنا کی سے بچائے۔
جاپانی قوم اول و آخر ایک تجارتی قوم ہے۔ اس کا اخلاق بھی اس کے تجارتی مفاد کے تابع ہے۔ مثلاً اکثر ملکوں میں ( خود دہلی میں بھی ) ائیر پورٹ یا ائیر پورٹ ہوٹل سے مقامی ٹیلیفون مفت کیا جا سکتا ہے مگر جاپان میں اس کی سہولت نہیں ۔ اکثر ملکوں میں ٹرانزٹ مسافر کے لئے ائیر پورٹ ٹیکس نہیں ہوتا مگر جاپان میں ٹرانزٹ مسافر سے بھی ۱۶ ڈالر ائیر پورٹ ٹیکس کے طور پر وصول کئے جاتے ہیں۔ وغیرہ ہندوستانی انسان بھی مفاد پسند ہے اور جاپانی انسان بھی مفاد پسند ۔ تاہم دونوں میں ایک فرق ہے۔ ہندوستانی انسان کے نزدیک مفاد پرستی کا مطلب ایکسپلائٹیشن ہے۔ وہ ناقص سامان بیچ کر اپنا مفاد حاصل کرنا چاہتا ہے۔ مگر جاپانی انسان کی مفاد پرستی اس کو یہ سکھاتی
‹ Previous page Next page › Contents of June 1992 All issues