He is our super-guru.
الرسالہ، جون ۱۹۹۲، صفحہ ۴۵
ہے کہ بہتر سے بہتر سامان تیار کرو تاکہ ساری دنیا تمہارا سامان خریدنے پر مجبور ہو جائے۔ ہند ستانی انسان کا تجارتی مذہب دھوکا ہے ، جاپانی انسان کا تجارتی مذہب اعلیٰ کوالٹی ۔ اس فرق کا مزید نتیجہ یہ ہے کہ جاپان میں اس قسم کے دنگے کبھی نہیں ہوتے جیسے کہ ہندستان میں ہر روز ہوتے رہتے ہیں ۔ کیوں کہ " کوالٹی " کا مزاج آدمی کو امن پسند بناتا ہے اور " دھوکے “ کا مزاج فساد پسند ۔ لاس اینجلیز سے ٹوکیو تک کا سفر نہایت پرسکون گزرا تھا۔ کیوں کہ اس میں بیشتر جاپانی مسافر تھے ۔ چند ہندستانی مسافر بھی تھے ۔ ان کے مزاج کا سب سے پہلا مظاہرہ ایرپورٹ پر گیٹ نمبر ۱ کے ویٹنگ ہال میں ہوا۔ یہاں ہندستانی لوگ آدھ گھنٹہ کے لئے جمع ہوئے تھے ۔ وہ یہاں سے اٹھے تو میں نے دیکھا کہ جگہ جگہ کوڑا پڑا ہوا تھا۔ جہاز کے اندر ایک ہندستانی مسافر نے کافی شراب پی لی۔ اس کے بعد وہ مدہوش ہو کر چلانے لگے ۔ جہاز کا عملہ بڑی مشکل سے ان کو اٹھا کر پیچھے کی سیٹ پر لے گیا ۔
میری سیٹ کے قریب ایک امریکی خاتون (Rebecca Becky Medcalf) تھیں ۔ وہ سیاح کے طور پر ہندستان جارہی تھیں ۔ انھوں نے بتایا کہ میں خدا پر عقیدہ رکھتی ہوں ، مگر کسی مذہب کو نہیں مانتی :
I believe in God, but not in any particular religion. انھوں نے " مسلم ریلیجن " کا کوئی مطالعہ نہیں کیا تھا ۔ البتہ مختصر طور پر عیسائیت اور یہودیت کو پڑھا تھا ، مگر وہ اس سے متاثر نہ ہو سکیں ۔
اس قسم کے لوگ مغرب میں کثرت سے پائے جاتے ہیں ۔ اس کی وجہ غالب یہ ہے کہ (اسلام کے علاوہ ) )مذاہب تحریف کی بنا پر انسانی عقل کو اپیل نہیں کرتے ۔ مگر خدا کی معرفت انسان کی فطرت میں پیوست ہے ۔ آدمی کسی خارجی مذہب کا انکار کر سکتا ہے مگر وہ خود اپنی فطرت کا انکار نہیں کر سکتا ۔ یہی وجہ ہے کہ اکثر لوگ جو مذہب کو نہیں مانتے ، وہ عین اسی وقت گہرائی کے ساتھ خدا کے وجود کے معترف ہوتے ہیں ۔ ایسے لوگوں کو غیر محرف مذہب ( اسلام ) مل جائے تو وہ خدا کو بھی ماننے لگیں گے اور خدا کے بھیجے ہوئے سچے مذہب کو بھی ۔
درمیان میں جہاز بینکاک میں اترا ۔ یہاں کا وقت انڈیا کے مقابلہ میں ڈیڑھ گھنٹہ آگے
‹ Previous page Next page › Contents of June 1992 All issues