نظریاتی خلا
الرسالہ، جولائی ۱۹۹۲، صفحہ ۲۷
راقم الحروف کا خیال ہے کہ پہلا انہدام اگر حقیقی تھا تو دوسرا انہدام علامتی ہے۔ سوویت یونین عملاً منہدم ہو چکا۔ امریکہ بھی امکانی طور پر اپنے انہدام کے قریب ہے۔ جارج بش کا گرہنا امریکہ کے گرنے کی علامتی پیشین گوئی ہے۔
ایک مبصر نے بجاطور پر لکھا ہے کہ تقریباً ۳۰ سال پہلے سابق روسی وزیرِ اعظم خروشیف نے اقوام متحدہ میں تقریر کرتے ہوئے اعلان کیا تھا کہ کمیونسٹ سرمایہ داری نظام کو دفن کر دیں گے : Communists would bury capitalism.. مگر کمیونسٹ نظام خود اپنے داخلی تضادات ,(inner contradictions) کا شکار ہو کر منہدم ہو گیا۔ اب دوسرے سپر پاور امریکہ کے لیے متحدہ یورپ اور جاپان زبردست اقتصادی خطرہ بن کر ابھرے ہیں۔ بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ جو انجام سرخ سپر پاور کا ہو چکا ہے وہی انجام سفید سپر پاور کا آئندہ ہونے والا ہے۔
انسان بنیادی طور پر ایک تو جیہہ پسند مخلوق ہے۔ وہ لازمی طور پر ایک آئیڈیالوجی (نظریہ) چاہتا ہے جس کے ذریعہ وہ کائنات کی توجیہہ کرے۔ جس کے ذریعہ وہ متعین کر سکے کہ وہ کیا ہے اور تاریخ میں اس کا مقام کیا ہے۔ اس قسم کی ایک آئیڈیالوجی کے بغیر آدمی زندہ نہیں رہ سکتا۔ امریکہ کے پاس انسان کو دینے کے لیے اس قسم کی کوئی آئیڈیالوجی نہیں۔ اس کا واحد ایڈوانٹج یہ ہے کہ اس کے پاس ایک قابلِ عمل معاشی ڈھانچہ (workable system) ہے۔ سوویت یونین کا معاشی ڈھانچہ اس کے مقابلہ میں ناقابلِ عمل (unworkable) تھا۔ اور یہی اصلاً اس کے انہدام کا سبب بنا۔
تاہم سوویت یونین کے پاس ایک آئیڈیالوجی تھی ۔ یہ اگر چہ ایک جھوٹی آئیڈیالوجی (false ideology) تھی۔ مگر اس کے ذریعہ انسان کو ایک فرضی تسکین حاصل تھی کہ وہ اس پوزیشن میں ہے کہ زندگی اور کائنات کی توجیہ کر سکے۔ سوویت یونین کے انہدام سے یہ بھرم ختم ہو گیا۔ ٹائمز آف انڈیا (۱۲ جنوری ۱۹۹۲) میں ایک تجزیہ چھپا ہے ، اس کا عنوان ہے ــ سوویت یونین کے انہدام کے بعد :
The aftermath of the Soviet colapse 27 اللسانی . جولائی ۱۹۹۲
‹ Previous page Next page › Contents of July 1992 All issues