Al-Risala · July 1992 · page 28

نظریاتی خلا

الرسالہ، جولائی ۱۹۹۲، صفحہ ۲۸

تجزیہ نگار نے بجاطور پر لکھا ہے کہ سوویت یونین کا انہدام سادہ طور پر صرف ایک ایمپائر کا انہدام نہیں۔ یہ در حقیقت جدید انسان کے سوچنے کے ڈھانچے (structure of thinking) میں بنیادی تبدیلی پیدا کرنے والا ہے۔ یہ تاریخ کے عمل (course of history) کے بارہ میں ہمارے نقطہ نظر (outlook) کو بدل دینے والا واقعہ ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ اشتراکی ایمپائر کے انہدام کے بعد عالمی سطح پر ایک نظریاتی خلا (ideological vacuum) پیدا ہو گیا ہے۔ اب دنیا کے سامنے عملاً کوئی نظریہ سرے سے موجود ہی نہیں۔

سوویت یونین کا عملی انہدام اور امریکہ کا امکانی انہدام اب اس درجہ کو پہنچ رہا ہے جس کو ایک مغربی عالم نے جدید تہذیب کا انہدام (collapse of civilization) سے تعبیر کیا ہے۔ انسانی دنیا میں عالم گیر نظریاتی خلا کا دور آ چکا ہے یا کم از کم، وہ بہت جلد آنے والا ہے۔ اس صورت حال کے پیش نظر، ٹائمس آف انڈیا کے مذکورہ تجزیہ نگار نے اپنے مضمون ان الفاظ پر ختم کیا ہے کہ اشتراکیت کو گرہن لگنے کے بعد لازمی ہے کہ کوئی متبادل نظر یہ اٹھے جوان مسائل کا حل بتائے جو آج انسانیت کو گھیرے ہوئے ہیں :

یہاں خود حالات میں وہ اشارہ موجود ہے جو بتاتا ہے کہ وہ متبادل نظریہ کون سا ہو سکتا ہے جو انسانیت کو اس کی مطلوب چیز دے سکے۔ سوویت یونین میں بسنے والے انسان کو بیک وقت دو تلخ تجربے ہوئے۔ ایک، کمیونسٹ ڈکٹیٹر شپ کی طرف سے پیش آنے والا تشدد، دوسرا، مذہب کو اختیار کرنے کے جرم میں مسلسل تعذیب۔ سوویت انسان نے تشدد کی بنا پر کمیونزم کو چھوڑ دیا۔ مگر اسی تشدد کے باوجود وہ مذہب کو چھوڑنے پر راضی نہ ہوا۔

مذہب انسان کی فطری طلب ہے، اور جو چیز فطری طلب ہو اس کو چھوڑنا انسان کے لیے ممکن نہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 1992 All issues

Printed page